گواہان حاشیہ
(۱) خدا بخش اتالیق نواب صاحب (۲) عبدالکریم سیالکوٹی (۳) قاضی ضیاء الدین ساکن کوٹ قاضی ضلع گوجرانوالہ (۴) مولوی نورالدین (۵) محمد احسن امروہی (۶) شادی خان ملازم سرراجہ امر سنگھ صاحب بہادر (۷) ظفر احمد کپور تھلی (۸) عبداللہ سنوری (۹) عبدالعزیز دہلوی (۱۰)علی گوہر جالندھری (۱۱) فضل الدین حکیم بھیروی (۱۲) حافظ محمدصاحب پشاوری (۱۳) حکیم محمد اشرف علی ہاشمی خطیب بٹالہ (۱۴) عبدالرحمن برادر زادہ مولوی نور الدین (۱۵) محمد اکبر ساکن بٹالہ (۱۶) قطب الدین ساکن بدوملی
اس عاجز کے خط مندرجہ بالا کے جواب میں جو شیخ بٹالوی صاحب کا خط آیا وہ ذیل میں مع جواب الجواب درج کیا جاتا ہے لیکن چونکہ وہ جواب الجواب اس طرف سے بٹالوی صاحب کی خدمت میں روانہ کیا گیا ہے اس میں ان کی تمام ہذیانات و بہتانات کا جواب نہیں ہے جو ان کے خط میں درج ہیں اور ممکن ہے کہ ان کا خط پڑھنے والے ان افتراؤں سے بے خبر ہوں جو اس خط میں دھوکہ دینے کی غرض سے درج ہیں اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ اس خط کی تحریر سے پہلے شیخ صاحب کے بعض افتراؤں اور لافوں اور بہتانوں کا جواب دیں سو بطور قولہ و اقول ذیل میں جواب درج کیا جاتا ہے۔
قولہ: میں قرآن اور پہلی کتابوں اور دین اسلام اور پہلے نبیوں کو اور نبی آخر الزمان اور پہلے نبیوں کو سچا جانتا ہوں اور مانتا ہوں اور اس کا لازمہ اور شرط ہے کہ آپ کو جھوٹا جانوں۔
اقول: شیخ صاحب اگر آپ قرآن کو سچا جانتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی صادق مانتے تو مجھ کو کافر نہ ٹھہراتے کیا قرآن کریم اور حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ماننے کے یہی معنی ہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہے اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے اور کلمہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا قائل ہے اور اسلام میں