نجات محدود سمجھتا اور بدل و جان اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں فدا ہے اس کو آپ کافر بلکہ اکفر ٹھہراتے ہیں اور دائمی جہنم اس کے لئے تجویز کرتے ہیں اُس پر لعنت بھیجتے ہیں اس کو دجال کہتے ہیں اور اس کو قتل کرنا اور اسکے مال کو بطور سرقہ لینا سب جائز قرار دیتے ہیں رہے وہ کلمات اس عاجز کے جن کو آپ کلمات کفر ٹھہراتے ہیں اُن کا جواب اس رسالہ میں موجود ہے ہر ایک منصف خود پڑھ لے گا اور آپ کی دیانت اور آپ کا فہم قرآن اور فہم حدیث اُس سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہے علیحدہ لکھنے کی حاجت نہیں۔
قولہ: عقائد باطلہ مخالفہ دیں اسلام و ادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی شرست کا ایک جزو ہے۔
اقول: شیخ صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو اوّل تو وہ جرأت کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیق کامل کسی فسق اور کفر کا الزام نہیں لگاتا اور اگر لگاوے تو پھر ایسا کامل ثبوت پیش کرتا ہے کہ گویا دیکھنے والوں کے لئے دن چڑھا دیتا ہے پس اگر آپ ان دونوں صفتوں مذکورہ بالا سے متصف ہیں تو آپ کو اُس خداوند قادر ذوالجلال کی قسم ہے جس کی قسم دینے پر حضرت بنی صلی اللہ علیہ وسلم بھی توجہ کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ آپ حسب خیال اپنے یہ دونوں قسم کا خبث اس عاجز میں ثابت کر کے دکھلاویں یعنی اوّل یہ کہ میں مخالف دیں اسلام اور کافر ہوں اور دوسرے یہ کہ میرا شیوہ جھوٹ بولنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اپنی رؤیا میں صادق تر وہی ہوتا ہے جو اپنی باتوں میں صادق تر ہوتا ہے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق کی یہ نشانی ٹھہرائی ہے کہ اس کی خوابوں پر سچ کا غلبہ ہوتا ہے اور ابھی آپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں پس اگر آپ نے یہ بات نفاق سے نہیں کہی اور آپ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول میں سچے ہیں تو آؤ ہم اور تم اس طریق سے ایک دوسرے کو آزما لیں کہ بموجب اس