گئی کہ بجز استعمال کذب اور کوئی صلاح کسی وکیل نے مجھ کو نہ دی لیکن دی لیکن اللہ جلشانہٗ کی توفیق سے میں سچ کیلئے اپنی جان اور عزت سے دست بردار ہو گیا اور بسا اوقات مالی مقدمات میں محض سچ کے لئے میں نے بڑے بڑے نقصان اُٹھائے اور بسا اوقات محض خدا تعالیٰ کے خوف سے اپنے والد اور اپنے بھائی کے برخلاف گواہی دی اور سچ کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اس گاؤں میں اور نیز بٹالہ میں بھی میری ایک عمر گذر گئی ہے مگر کون ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی میرے منہ سے جھوٹ نکلا ہے پھر جب میں نے محض للہ انسانوں پر جھوٹ بولنا ابتدائے سے متروک رکھا اور بارہا اپنی جان اور مال کو صدق پر قربان کیا تو پھر میں خدا تعالیٰ پر کیوں جھوٹ بولتا۔ اور اگر آپ کو یہ خیال گذرے کہ یہ دعویٰ کتاب اللہ اور سنت کے برخلاف ہے تو اس کے جواب میں بادب عرض کرتا ہوں کہ یہ خیال محض کم فہمی کی وجہ سے آپ کے دل میں ہے اگر آپ مولویانہ جنگ و جدال کو ترک کر کے چند روز طالب حق بن کر میرے پاس رہیں تو امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کی غلطیاں نکال دے گا اور مطمئن کر دے گا اور اگر آپ کو اس بات کی بھی برداشت نہیں تو آپ جانتے ہیں کہ پھر آخری علاج فیصلہ آسمانی ہے۔ مجھے اجمالی طور پر آپ کی نسبت کچھ معلوم ہوا ہے اگر آپ چاہیں تو چند روز توجہ کر کے اور تفصیل پر بفضلہ تعالیٰ اطلاع پا کر چند اخباروں میں شائع کر دوں۔ اس کے شائع کرنے کیلئے آپ کی خاص تحریر سے مجھ کو اجازت ہونی چاہئے میں اس خط کو محض آپ پر رحم کر کے لکھتا ہوں اور بہ ثبت شہادت چند کس آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور آخر دعا پر ختم کرتا ہوں۔ ۱؎ آمین الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ ۱؎ الاعراف: ۹۰ ۳۱؍ دسمبر ۱۸۹۲ء