خط بخدمت شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ بخدمت شیخ محمد حسین صاحب ابو سعید بٹالوی۔  ۔ ۱؎ اما بعد میںافسوس سے لکھتا ہوں کہ میں آپ کے فتویٰ تکفیر کی وجہ سے جس کا یقینی نتیجہ احدالفریقین کا کافر ہونا ہے اس خط میں سلام مسنون یعنی السلام علیکم سے ابتدا نہیں کر سکا لیکن چونکہ آپ کی نسبت ایک منذر الہام مجھ کو ہوا اور چند مسلمانوں بھائیوں نے بھی مجھ کو آپ کی نسبت ایسی خوابیں سنائیں جن کی وجہ سے میں آپ کے خطرناک انجام سے بہت ڈر گیا تب بوجہ آپ کے ان حقوق کیجو بنی نوع کو اپنے نوع انسان سے ہوتے ہیں اور نیز بوجہ آپ کی ہم وطنی اور قرب و جوار کے میرا رحم آپ کی اس حالت پر بہت جنبش میں آیا اور میں اللہ جلشانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے آپ کی حالت پر نہایت رحم ہے اور ڈرتا ہوں کہ آپ کو وہ امور پیش نہ آ جائیں جو ہمیشہ صادقوں کے مکذبوں کو پیش آتے رہے ہیں اسی وجہ سے میں آج رات کو سوچتا سوچتا ایک گرداب تفکر میں پڑ گیا کہ آپ کی ہمدردی کے لئے کیا کروں آخر مجھے دل کے فتویٰ نے یہی صلاح دی کہ پھر دعوت الی الحق کے لئے ایک خط آپ کی خدمت میں لکھوں کیا تعجب کہ اسی تقریب سے خدا تعالیٰ آپ پر فضل کر دیوے اور اس خطرناک حالت سے نجات بخشے سو عزیز من آپ خدا تعالیٰ کی رحمت ۱؎ النمل: ۶۰ سے نومید نہ ہوں وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اگر آپ طالب حق بن کر میری سوانح زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ پر قطعی ثبوتوں سے یہ بات کھل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ کذب کی ناپاکی سے مجھ کو محفوظ رکھتا رہا ہے یہاں تک کہ بعض وقت انگریزی عدالتوں میں میری جان اور عزت ایسے خطرہ میں پڑ