آدمی اور دوسری طرف صد ہا آدمی ہونگے اور اکثر بدزبان اور مکفر ہونگے بغیر حاضری کسی یورپین کے ہرگز انتظام نہیں ہو سکتا لیکن اگر آپ کے نزدیک یورپین افسر کی ضرورت نہیں تو اوّل مجھے اپنے دستخطی تحریر سے مطلع فرما دیجئے کہ میں کامل انتظام گروہ مفسد خیال لوگوں کاکر لونگا اور ان کا منہ بند رہے گا اور کسی یورپین افسر کی کچھ ضرورت نہیں ہوگی۔ اس صورت میں مَیں یہ شرط بھی چھوڑ دونگا پھر اس تحریر کے بعد ہر ایک نتیجہ کے آپ ہی ذمہ وار ہونگے۔
(۲) بحث تحریری ہر ایک فریق اپنے ہاتھ سے لکھے اور جو لکھنے سے عاجز ہو وہ اوّل یہ عذر ظاہر کر کے کہ میں لکھنے سے عاجز ہوں دوسرے سے لکھا دیوے کیونکہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا اوّل درجے پر سند کے لائق ہوتا اور دوسروں کی تحریریں اگرچہ تصدیق کی جائیں مگر پھر بھی اس درجے پر نہیں پہنچتیں کیونکہ ان میں تحریف کاتب کا عذر ہو سکتا ہے۔
(۳) پرچے پانچ ہونے چاہئیں جو صاحب اوّل لکھے ایک پرچہ زائد ان کا حق ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کو اختیار ہو گا چاہیں وہ پہلا پرچہ لکھنا منظور کر لیں یا اس عاجز کا لکھنا منظور رکھیں۔ جس طرح پسند کریں مجھے منظور ہے۔
(۴) ہر ایک پرچہ فریقین کی ایک ایک نقل بعد دستخط صاحب راقم فریق ثانی کو اسی وقت بلاتوقف دی جاوے اور پھر جلسہ عام میں وہ پرچہ بآواز بلند سنا دیا جاوے۔
(۵) اس بحث میں تقریرا ًیا تحریراً کسی تیسرے آدمی کا ہرگز دخل نہ ہو۔ نہ تصریحاً نہ اشارتاً نہ کنایۃً اور جلسہ بحث میں کسی کتاب سے مدد نہ لی جائے بلکہ جو کچھ فریقین کو زبانی یاد ہے وہی لکھا جاوے تا تکلف اور تصنع کو اس میں دخل نہ ہو لیکن اگر کوئی فریق یہ ظاہر کرے کہ میں بغیر کتابوں کے کچھ لکھ نہیں سکتا تو پہلے یہ تحریری اقرار اپنی عجز بیانی کا دے کر پھر اس کتاب سے مدد لینے کا اختیار ہوگا۔
(۶) اگر کوئی فریق بعض امور تمہیدی قبل از اصل بحث پیش کرنا چاہے تو فریق ثانی کو بھی اختیار ہوگا کہ ایسے ہی امور تمہیدی وہ بھی پیش کرے مگر دونوں کی طرف سے یہ تمہیدی امور ایک ایک پرچہ تحریری طور پر پیش ہونگے ایسے پرچہ کی نسبت فریقین کو اختیار ہوگا۔