کے وجود سے منکر ہیں اور اور ملائکہ کو صرف قوتیں سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سارے الزام محض بہتان ہیں یہ عاجز اسی طرح ان سب باتوں پر ایمان رکھتا ہے۔ جو قال اللہ و قال الرسول سے ثابت ہیں اور سلف صالحین کا گروہ ان کو مانتا ہے سو اس وقت مجھے خیال ہے کہ میرا ہر حال میں خدا ناصر ہے۔ مجھے ہر طرح سے اتمام حجت کرنا چاہئے لہٰذا مکلف ہوں کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب کی یہ درخواست بھی منظور کی کہ مسیح موعود میں بحث کی جائے مگر بحث تحریری ہوگی اور تحریر میںکسی دوسرے کا ہرگز دخل نہیں ہوگا کیونکہ اب میں ایک مہجور کی طرح آدمی ہوں میرے ہاتھوں کی طرح کسی دوسرے کے ہاتھ یہ کام نہیں کریں گے۔ مولوی محمد حسین صاحب بھی اپنے ہاتھ سے لکھیں اور میں اپنے ہاتھ سے لکھوں گا درمیانی شرائط کا تصفیہ بحث سے ایک دن پہلے ہو جائے لیکن دس روز پہلے مجھے خبر ملنی چاہئے تا لوگ جو شکوک و شبہات میں غرق ہوگئے ہیں ان کو بذریعہ خطوط و اشتہارات میں بلا لوں اور تا اس بحث سے ایک عام نفع مترتب ہو اور ہر روز کا جھگڑا طے ہو جائے۔ آپ پر یہ فرض ہے کہ آپ براہ مہربانی آج محمد حسین صاحب کو اطلاع دے دیں اور بحث سے دس دن پہلے مجھے بھی مطلع فرماویں۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد
۲۷؍ مئی ۱۸۹۱ء
٭…٭…٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ
مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ پہنچا شرائط مندرجہ ذیل ہونی چاہئیں۔
(۱) جلسہ بحث آپ کے مکان پر ہو اور امن قائم رکھنے کیلئے تمام انتظامات آپ کے ذمہ ہوگا۔ یہ بات قریب یقین کے ہے کہ چھ سات ہزار آدمی تک اس جلسہ میں جمع ہو جاویں گے ایسا مکان تجویز کرنا آپ کے ہی ذمہ ہوگا۔ میرے نزدیک یہ بات نہایت ضروری ہوگی کہ کوئی یورپین افسر اس جلسے میں ضرور تشریف رکھتے ہوں کیونکہ اس طرف چند