اگر فی الحقیقت حضرت مسیح علیہ السلام خدا ہی ہیں اور وہی ربّ العالمین اور خالق السموات والارض ہے تو بیشک ہم لوگ کافر کیا اَکفر ہیں اور بیشک اس صورت میں دین اسلام حق پر نہیں ہے لیکن اگر حضرت مسیح علیہ السلام صرف ایک بندہ خدا تعالیٰ کا نبی اور مخلوقیت کی تمام کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر یہ عیسائی صاحبوں کا ظلم عظیم اور کفر کبیر ہے کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس حالت میں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں اِس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ دلیل نہیں کہ اُس نے نابود شدہ توحید کو پھر قائم کیا اور جو اصلاح ایک سچی کتاب کو کرنی چاہئے تھی وہ کر دکھائی اور ایسے وقت میں آیا جس وقت میں اس کے آنے کی ضرورت تھی یوں تو یہ مسئلہ بہت ہی صاف تھا کہ خدا کیا ہے اور اس کی صفات کیسی ہونی چاہئے مگر چونکہ اب عیسائی صاحبوں کو یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا اور معقولی اور منقولی بحثوں نے اس ملک ہندوستان میں کچھ ایسا ان کو فائدہ نہیں بخشا اس لئے ضرور ہوا کہ اب طرز بحث بدل لی جائے سو میری دانست میں اس کے انسب طریق اور کوئی نہیں کہ ایک روحانی مقابلہ مباہلہ کے طور پر کیا جائے اور یہ کہ اوّل اسی طرح ہر چھ دن تک مباحثہ ہو جس مباحثہ کو میرے دوست قبول کر چکے ہیں اور پھر ساتویں دن مباہلہ ہو اور فریقین مباہلہ میں یہ دعا کریں مثلاً فریق عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسیٰ مسیح ناصری جس پر میں ایمان لاتا ہوں وہی خدا ہے اور قرآن انسان کا … ہے خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہو جس سے میری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقیہ شرائط انتظام مباحثہ قرار یافتہ مابین عیسائیاں و مسلمانان
یہ مباحثہ امرتسر میں ہوگا (۲) ہر ایک جانب میں صرف پچاس اشخاص ہونگے۔ پچاس ٹکٹ مرزا غلام احمد صاحب عیسائیوں کو دیں گے اور پچاس ٹکٹ ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب مرزا صاحب کو مسلمانوں کیلئے دیں گے۔ عیسائیوں کے ٹکٹ مسلمان جمع کریں گے اور مسلمانوں کے عیسائی۔ (۳) مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسلمانوں کی طرف سے اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خاں صاحب عیسائیوں کی طرف سے مقابلہ میں آئیں گے۔ (۴) سوائے ان صاحبوں کے اور صاحب کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی۔ ہاں یہ صاحب تین شخصوں کو بطور معاون