رسوائی ظاہر ہو جائے اور ایسا ہی یہ عاجز دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ درحقیقت عیسی مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے خدا ہرگز نہیں اور قرآن کریم تیری پاک کتاب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میرا پیار اور برگزیدہ رسول ہے اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل کر جس سے میری رسوائی ظاہرہو جائے اور اسے خدا میری رسوائی کیلئے یہ بات کافی ہوگی کہ ایک برس کے اندر تیری طرف سے میری تائید میں کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو جس کے مقابلہ سے تمام مخالف عاجز رہیں اور واجب ہوگا کہ فریقین کے دستخط سے یہ تحریر چند اخبارات میں شائع ہو جائے کہ جو شخص ایک سال کے اندر مورد غضب الٰہی ثابت ہو جائے اور یا یہ کہ ایک فریق کی تائید میں کچھ ایسے نشان آسمانی ظاہر ہوں کہ دوسرے فریق کی تائید میں ظاہر و ثابت نہ ہو سکیں تو ایسی صورت میں فریق مغلوب یا فریق غالب کا مذہب اختیار کرے اور یا اپنی کل جائیداد کا نصف حصہ اس مذہب کی تائید کیلئے فریق غالب کو دے دے جس کی سچائی ثابت ہو۔ (خاکسار مررا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور) مسٹر عبداللہ آتھم کے خط کا جواب آج اس اشتہار کے لکھنے سے ابھی میں فارغ ہوا تھا کہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کا ۔۔۔۔۔۔ (بقیہ حاشیہ )منتخب کر سکتے ہیں مگر ان کو بولنے کا اختیار نہ ہوگا (۵)مخالف جانب صحیح صحیح نوٹ بغرض اشاعت لیتے رہیں گے (۶) کوئی صاحب کسی جانب سے ایک گھنٹہ سے زیادہ نہ بول سکیں گے (۷) انتظامی معاملات میں صدر انجمن کا فیصلہ ناطق مانا جائے گا (۸) دو صدر انجمن ہوں گے یعنی ایک ایک ہر طرف سے جو اس وقت مقرر کئے جائیں گے (۹) جائے مباحثہ کا تقرر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کے اختیار میں ہوگا (۱۰) وقت مباحثہ ۶ بجے صح سے ۱۱ بجے صبح تک ہوگا (۱۱) کل وقت مباحثہ دو زمانوں پر تقسیم ہوگا۔ (۱۲) ۶ دن یعنی روز پیر مئی ۲۲ سے ۲۷ مئی تک ہوگا اس وقت میں مرزا صاحب کو اختیار ہوگا