یہ بھی بہتر ہے مگر اس سے پہلے روحانی اور آسمانی آزمائش ضرور چاہئے۔ والسلام علی من اتبع الہدی خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ۲۳؍ اپریل ۱۸۹۳ء رجسٹرڈ خط جو ۲۵؍ اپریل کو پادری صاحب کے ۲۴؍ اپریل کے خط کے جواب میں بھیجا گیا مشفق مہربان پادری صاحب سلامت۔ بعد ماوجب میں نے آپ کی چٹھی ۱؎کو اوّل سے آخر تک سنا۔ میں اُن تمام شرائط کو منظور کرتا ہوں جن پر آپ کے اور میرے دوستوں کے دستخط ہو چکے ہیں لیکن سب سے پہلے یہ بات تصفیہ پا جانی چاہئے کہ اس مباحثہ اور مقابلہ سے علت غائی کیا ہے کیا یہ انہیں معمولی مباحثات کی طرح ایک مباحثہ ہوگا جو سالہائے دراز سے عیسائیوں اور مسلمانوں میں پنجاب اور ہندوستان میں ہو رہے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ مسلمان تو اپنے خیال میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے عیسائیوں کو ہر ایک بات میں شکست دی ہے اور عیسائی اپنے گھر میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ مسلمان لاجواب ہوگئے ہیں اگر اسی قدر ہے تو یہ بالکل بے فائدہ اور تحصیل حاصل ہے اور بجز اس بات کے اس کا آخری نتیجہ کچھ نظر نہیں آتا کہ چند روز بحث مباحثہ کا شور و غوغا ہو کر پھر ہر یک فضول گو کو اپنی ہی طرف کا غلبہ ثابت کرنے کیلئے باتیں بنانے کا موقعہ ملتا رہے مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ حق کھل جائے اور ایک دنیا کو سچائی نظر آ جائے۔ --- ۱؎ خلاصہ چٹھی: امرتسر ۲۴؍ اپریل ۱۹۹۳ء ۔ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان۔ جناب من مولوی عبدالکریم صاحب معہ معزز سفارت یہاں پہنچے اور مجھے آپ کا دستی خط دیا۔ جناب نے جو مسلمانوں کی طرف سے مجھے مقابلہ کیلئے دعوت کی ہے اس کو میں بخوشی قبول کرتا ہوں آپ کی سفارت نے آپ کی طرف سے مباحثہ اور شرائط ضروریہ کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ جناب کو بھی وہ انتظام اور شرائط منظور ہوں گے اس لئے مہربانی کر کے اپنی فرصت میں اطلاع بخشیں کہ آپ ان شرائط کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ کا تابعدار۔ ایچ مارٹن کلارک۔ ایم۔ ڈی۔ سی۔ ایم۔ راڈنبرا ۔ ایم۔ آر۔ اے۔ ایس۔ سی