بھیجنے کے بعد یہ عاجز بھی اپنے مقابلہ کا اشتہار دے دے گا اور ایک پرچہ صاحب مقابلہ کی طرف بھیج دے گا مگر واضح رہے کہ یوں تو ایک مدت دراز سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا جھگڑا چلا آتا ہے اور تب سے مباحثات ہوئے اور فریقین کی طرف سے بکثرت کتابیں لکھی گئیں اور درحقیقت علمائے اسلام نے بہ تمام تر صفائی سے ثابت کر دیا کہ جو کچھ قرآن کریم پر اعتراض کئے گئے ہیں وہ دوسرے رنگ میں توریت پر اعتراض ہیں اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نکتہ چینی ہوئی وہ دوسرے پیرایہ میں تمام انبیاء کی شان میں نکتہ چینی ہے۔ جس سے حضرت مسیح بھی باہر نہیں بلکہ ایسی نکتہ چینوں کی بنا پر خدا تعالیٰ بھی مورد اعتراض ٹھہرتا ہے۔ سو یہ بحث زندہ مذہب یا مردہ مذہب کی تنقیح کے بارہ میں ہوگی اور دیکھا جائے گا کہ جن روحانی علامات کا مذہب اور کتاب نے دعویٰ کیا ہے وہ اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ نہیں اور مناسب ہوگا کہ مقام بحث لاہور یا امرتسر ہو اور فریقین کے علماء کے مجمع میں یہ بحث ہے۔
خاکسار
مرزا غلام احمد
از قادیان ضلع گورداسپور
ڈاکٹر مارٹن کلارک کے نام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
مشفق مہربان پادری صاحب
بعد ما وجب یہ وقت کیا مبارک ہے کہ میں آپ کی اس مقدس جنگ کیلئے تیار ہو کر جس کا آپ نے اپنے خط۱؎ میں ذکر فرمایاہے۔ اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب
۔۔
(حاشیہ )