کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کیلئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے۔ جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اسی وقت بول اُٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔ وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنانہیں چاہتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرح کھینچ لائے گا لیکن اس کے نکلنے کیلئے کوئی تقریب چاہئے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوںکو مقابلہ کیلئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے نہ کسی اَوْر سے۔ آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بعید ہوگا کہ آپ عوام سے اُلجھتے پھریں اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوںکے مقابلہ کیلئے دس برس کا پیاسا ہے اور کئی ۔۔۔ (بقیہ حاشیہ )