خوب جانتے ہیں۔ مگر آسمانی نشان تو وہ چیز ہے کہ وہ خود منکر کی ذات پر ہی وارد ہو کر حق الیقین تک اس کو پہنچا سکتا ہے اور انسان کو بجز اس کے ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ سو آپ تسلی رکھیں کہ اقلیدس کے ناچیز خیالات کو اُن عالی مرتبہ نشانوں سے کچھ نسبت نہیں۔
’’چہ نسبت خاک را با عالم پاک‘‘
اور یہ نہیں کہ صرف اس عاجز کے بیان پر ہی ہررہے گا بلکہ یہ فیصلہ بذریعہ ثالثوں کے ہو جائے گا اور جب تک ثالث لوگ جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں گے یہ شہادت نہ دیں کہ ہاں فی الحقیقت یہ خوارق اور پیشگوئیاں انسانی طاقت سے باہر ہیں تب تک آپ غالب اور یہ عاجز مغلوب سمجھا جائے گا لیکن درصورت مل جانے ایسی گواہیوں کے جو ان خوارق اور پیشگوئیوں کو انسان طاقت سے بالا تر قرار دیتی ہوں تو آپ مغلوب اور میں بفضلہ تعالیٰ غالب ہوں گا اور اسی وقت آپ پر لازم ہوگا کہ اسی جگہ قادیان میں بشرف اسلام مشرف ہو جائیں۔ پھر آپ اپنے خط کے اخیر پر یہ لکھتے ہیں کہ اگر شرائط مذکورہ بالا کو قبول نہیں فرماؤ گے تو آپ کا حال اور یہ شرائط چند اخبار ہند میں شائع کئے جائیں گے۔ سو مشفق من جو کچھ حق حق تھا آپ کی خدمت میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ عاجز آپ کے حالات شائع کرنے کرانے سے ہرگز نہیں ڈرتا۔ بلکہ خدا جانے آپ کب اور کس وقت اپنی طرف سے اخباروں میں یہ مضمون درج کرائیں گے مگر یہ خاکسار تو آج ہی کی تاریخ میں ایک نقل اس خط کی بعض اخباروں میں درج کرنے کیلئے روانہ کرتا ہے اور آپ کو یہ خوشخبری پہلے سے سنا دیتا ہے تا آپ کی تکلیف کشی کی حاجت نہ رہے اور من بعد جو کچھ آپ کی طرف سے ظہور میں آئے گا وہ بھی بیس روز تک انتظار کر کے چند اخباروں میں چھپوا دیا جاوے گا اور اگر آپ کچھ غیرت کو کام میں لاکر قادیان میں آگئے تو پھر آپ دیکھیں کہ خداوند کریم کس کے ساتھ ہے اور کس کی حمایت اور نصرت کرتا ہے اور پھر اس وقت آپ پر یہ بھی کھل جائے گا کہ کیا سچا اور حقیقی خدا جو خالق اور مالک ارض و سما ہے وہ وہ حقیقت میں ابن مریم ہے یا وہ خدا ازلی و ابدی غیر متغیر و قدوس جس پر ہم لوگ ایمان لائے ہیں سو