میں جو ہماری طاقت میں ہوں فرمائش کریں تو وہ بھی بفضلہ تعالیٰ میسر آ سکتے ہیں۔ مگر بہرحال پہلے آپ کا تشریف لانا ازبس ضروری ہے۔ پھر آپ دوسری شرط میں یہ لکھتے ہیں کہ الہام اور معجزہ کا ثبوت ایسا چاہئے جیسے کتاب اقلیدس میں ثبوت درج ہیں۔ جن سے ہمارے دل قائل ہو جائیں۔ اس میں اوّل عاجز کی اس بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزہ کا لفظ صرف اُسی محل میں بولا کرتے ہیں جب کوئی خارق عادت کسی بنی اور رسول کی طرف منسوب ہو لیکن یہ عاجز نہ نبی۱؎ نہ رسول ہے صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت و متابعت سے یہ انوار برکات ظاہر ہو رہے ہیں۔ سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ معجزہ کا اور ایسا ہی ہم لوگوں کے بول و چال میں آتا ہے اور جو اقلیدس کی طرح ثبوت مانگتے ہیں۔ اس میں یہ عرض ہے کہ جس قدر بفضلہ تعالیٰ روشن نشان آپ کو دکھلائے جائیں گے بمقابلہ اُن کے ثبوت اقلیدس کا جو اکثر دوائرہ موہومہ پر مبنی ہے ناکارہ اور ہیچ ہے۔ اقلیدس کے ثبوتوں میں کئی محل گرفت کی جگہ ہیں اور ان ثبوتوں کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوی کہے کہ اگر اوّل آپ بلادلیل کسی ایک چارپایہ کی نسبت یہ مان لیجئے کہ یہ چارپایہ نجاست کھا لیتا ہے اور میں میں کرتا ہے اور بدن پر اس کے اون ہے تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ وہ بھیڈ کا بچہ ہے۔ ایسا ہی اقلیدس کے بیانات میں اکثر جگہ تناقص ہے۔ جیسے اوّل وہ آپ ہی لکھتا ہے۔ نقطہ وہ شئے ہے جس کی کوئی جز نہ ہو یعنی بالکل قابل انقسام نہ ہو۔ پھر وہ دوسری جگہ آپ ہی تجویز کرتا ہے کہ ہر یک خط کے دو ٹکڑے ایسے ہو سکتے ہیں کہ وہ دونوں اپنے اپنے مقدار میں برابر ہوں۔ اب فرض کرو کہ ایک خط مستقیم ایسا ہے جو نو لفظوں سے مرکب ہے اور بموجب دعویٰ اقلیدس کے ہم چاہتے ہیں جو اس کے دو مساوی ٹکڑے کریں تو اس صورت میں یا تو یہ امر خلاف قرار داد پیش آئے گا کہ ایک نقطہ کے دو ٹکڑے ہو جائیں اور یا یہ دعویٰ اقلیدس کا کہ ہر یک خط مستقیم دو ٹکڑے مساوی ہو سکتا ہے غلط ٹھہرے گا۔ غرض ۱؎ یہ آپ کی سچائی کی دلیل ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس روز نبوت کو نہیں کھولا آپ نی بھی دعویٰ نہ کیا۔ (ایڈیٹر) اقلیدس بہت سی وہمی اور بے ثبوت باتیں بھری ہوئی ہیں جن کو جاننے والے