مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے۔ آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور المحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جزامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دور ہوتی ہے اور وصل الٰہی میسر آتا ہے اور اس کے علامات پیدا ہوتے ہیں۔ سو تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نسان مانگتے ہو۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔ رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی۔ اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب نازل ہوگئی ہوتیں اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے یہ آیتیں تو بآواز بلند ------------------------------------------- سورۃ المائدہ، سورۃ الانعام) سورۃ الاعراف، سورۃ الانفال، سورۃ التوبہ، سورۃ یونس، سورۃ ھود، سورۃ رعد، سورۃ ابراہیم، سورۃ الحجر، سورۃ واقعہ، سورۃ النمل، سورۃ الحج، سورۃ النبیہ، سورۃ المجادلہ چنانچہ بطور نمونہ چند آیات ی ہیں قال عزو جل۔ یھدی بہ اللہ من التبع رضوانہ سبل السلام ویحزجھم من الظلمت الی النور شفائٌ لما فی الصدور انزل من السماء ماء فاحیابہ الارض بعد موتہا انزل من السماء مائً فسالت اودیۃ بقدرھا۔ انزل من السماء مائً افتصبح الارض مخضریۃ تقشعرمنہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الٰی ذکر اللّٰہ الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدیھم بروح منہ۔ قل نزلہ روح القدس من ربک لیثبت الذین امنوا وھدًی وبشر للمسلمین۔ انا نحن نزلنا لحفظون۔فیھا کتب قیئمہ قل لئن اجتمعت الامن والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القران لایاتون بمثلہ ولوکان بعضھم لبعضٍ ظھیرًاo یعنی قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی راہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ نور کی طرف نکالے جاتے ہیں وہ ہر ایک اندرونی بیماری کو اچھا کرتا ہے۔ خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے ہر ایک وادی میں بقدر اپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ ایسا پانی اُتارا جس سے گلی سڑی ہوئی