کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کہتا ہے یہ ہے۔
قالوا لولا انزل علیہ ایت من ربّہٖ قل انما اِلاَّیت عند اللّٰہِ و انما انا نذیر مبینo اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتٰب یتلی علیھم ان فی ذٰلِک لرحمۃ و ذکری لقوم یومنونo ویستعجلونک بالعذاب ولولا اجل مسمی لجاء ھم لعذاب ولیاتینھم بغتۃً وَّھُمْ لایشعرونo
یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں وہ تو خدا تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانیوالا ہوں یعنی میرا کام فقط ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں کیلئے (جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں۔ یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اُمّی) وہ کتاب (جو جامع کمالات ہے) نازل کی جو ان پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے جس سے درحقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفّار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفّار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچ جاوے۔ صرف دیکھنے کی چیزنہ رہے کیونکہ مجرد رویّت کے نشانوں میں ان کو دھوکے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سو اس وہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جاوے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں۔ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنے پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنی فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ و معارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے٭ اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے
-------------------------------------------
٭ یہ تمام خارق عادت خاصیتیں قرآن شریف کی جن کی رو سے وہ معجزہ کہلاتا ہے انمفصلہ ذیل سورتوں میں بہ تفصیل ذیل کہتے ہیں۔ سورۃ البقر، سورۃ اٰل عمران، سورۃ النساء،