اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صدہا لوگوں کی یہ بات چشمدید ہے کہ اسی ملک میں آٹھ آٹھ نو نو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولاد موجود ہے۔ مگر آپ پر تو کچھ بھی افسوس نہیں اور نہ کرنا چاہئے کیونکہ آپ صرف متعصب ہی نہیں بلکہ اوّل درجہ کے احمق بھی ہیں۔ آپ کو اب تک اتنی خبر بھی نہیں کہ گورنمنٹ کے قانون عوام کی درخواست کے موافق انکی رسم اور سوسائٹی کی عام وضح کی بنا پر تیار ہوتے ہیں۔ اُن میں فلاسفروں کی طرز پر تحقیقات نہیں ہوتی اور جو بار بار آپ گورنمنٹ انگریزی کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے شکر گزار ہیں اور اس کے خیرخواہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں رہیں گے مگر تا ہم ہم اس کو خطا سے معصوم نہیں سمجھتے اور نہ اس کے قوانین کو حکیمانہ تحقیقاتوں پر مبنی سمجھتے ہیں بلکہ قوانین بنانے کا اصول رعایا کی کثرت رائے ہے۔ گورنمنٹ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تا وہ اپنے قوانین میں غلطی نہ کرے۔ اگر ایسے ہی قوانین محفوظ ہوتے تو ہمیشہ نئے نئے قانون کیوں بنتے رہتے۔ انگلستان میں لڑکیوں کی بلوغ کا زمانہ ۱۸ برس قرار دیا گیا ہے اور گرم ملکوں میں تو لڑکیاں بہت جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔ آپ اگر گورنمنٹ کے قوانین کو کالوحی من السماء سمجھتے ہیں کہ اُن میں امکان غلطی نہیں تو ہمیں بواپسی ڈاک اطلاع دیں تا انجیل اور قانون کاتھوڑا سا مقابلہ کر کے آپ کی کچھ خدمت کی جائے غرض گورنمنٹ نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا کہ ہمارے قوانین بھی توریت اور انجیل کی طرح خطا اور غلطی سے خالی ہیں اگر آپ کو کوئی اشتہار پہنچا ہو تو اس کی ایک نقل ہمیں بھی بھیج دیں پھر اگر گورنمنٹ کے قوانین خدا کی کتابوں کی طرح خطا سے خالی نہیں تو اُن کا ذکر کرنا یا توحمق کی وجہ سے ہے یا تعصب کے سبب سے مگر آپ معذور ہیں۔ اگر گورنمنٹ کے اپنے قانون پر اعتماد تھا تو کیوں ان ڈاکٹروں کو سزا نہیں دی جنہوں نے حال میں یورپ میں بڑی تحقیقات سے نو برس بلکہ سات برس کو بھی بعض عورتوں کے بلوغ کا زمانہ قرار دے دیا ہے اور ۹ برس کے متعلق آپ