اعتراض کر کے پھر توریت یا انجیل کا کوئی حوالہ نہ دے سکے۔ صرف گورنمنٹ کے قانون کاذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا توریت اور انجیل پر ایمان نہیں رہا۔ ورنہ نو برس کی حرمت یا تو توریت سے ثابت کرتے یا انجیل سے ثابت کرنی چاہئے تھی ۔ پادری صاحب یہی تو دجل ہے کہ الہامی کتب کے مسائل میں آپ نے گورنمنٹ کے قانون کو پیش کر دیا۔ اگر آپ کے نزدیک گورنمنٹ کے قانون کی تمام باتیں خطا سے خالی ہیں اور الہامی کتابوں کی طرح بلکہ ان سے افضل ہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوںکہ جن نبیوں نے خلاف قانون انگریزی کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کئے اگر وہ اس وقت ہوتے تو گورنمنٹ اُن سے کیا معاملہ کرتی۔ اگر وہ لوگ گورنمنٹ کے سامنے چالان ہو کر آتے جنہوں نے بیگانی کھیتیوں کے خوشے توڑ کر کھا لئے تھے تو گورنمنٹ ان کو اور ان کے اجازت دینے والے کو کیا کیا سزا دیتی۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ وہ شخص جو انجیر کا پھل کھانے دوڑا تھا اور انجیل سے ثابت ہے کہ وہ انجیر کا درخت اس کی ملکیت نہ تھا بلکہ غیر کی مِلک تھا اگر وہ شخص گورنمنٹ کے سامنے یہ حرکت کرتا تو گورنمنٹ اس کو کیا سزا دیتی انجیل سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے سور جو بیگانہ مال تھے اور جن کی تعداد بقول پادری کلارک دو ہزار تھی مسیح نے تلف کئے۔ اب آپ ہی بتلائیں کہ تعزیرات کی رو سے اس کی سزا کیا ہے۔ بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے جواب ضرورت لکھیں تا اور بہت سے سوال کئے جائیں۔ پادری صاحب آپ کا یہ خیال کہ نو برس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے، سراسر غلط ہے۔ آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے۔ انجیل نے آپ کو دھکے دیئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں میں آ پڑے یا درکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا یہ افتراء شیطانوں کا کام ہے۔ ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر