یہ رسالہ ایسا ہوگا کہ آپ بہت ہی خوش ہو جائیںگے۔ آپ کی اُن مہربانیوں کی وجہ سے جو اَب کے دفعہ آپ کے خط میں بہت ہی پائی جاتی ہیں میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ اس رسالہ کی وجہ اشاعت صرف آپ ہی کی درخواست قرار دی جاوے کیونکہ جس مضمون کے لکھنے کیلئے اب ہم تیار ہیں اگر آپ کا یہ خط نہ آیا ہوتا جس میں جناب مقدس نبوی اور حضرت عائشہ صدیقہ اور سودہ کی نسبت آپ نے بدزبانی کی ہے تو شاید وہ مضمون دیر کے بعد نکلتا۔ یہ آپ کی بڑی مہربانی ہوئی کہ آپ ہی محرک ہوگئے۔ امید ہے کہ دوسرے پادری صاحبان آپ پر بہت ہی خوش ہونگے اور کچھ تعجب نہیں کہ ہمارا رسالہ نکلنے کے بعد آپ کی کچھ ترقی بھی ہو جاوے۔ پادری صاحب ہمیں آپ کی حالت پر رونا آتا ہے کہ آپ زبان عربی سے تو بے نصیب تھے ہی مگر وہ علوم جو دینیات سے کچھ تعلق رکھتے ہیں جیسے طبعی اور طبابت ان سے بھی آپ بے بہرہ ہی ثابت ہوئے۔ آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اوّل تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواتر سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمّی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔ جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر ناخواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نو برس ہی تھے لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا۔ مگر احمق کا کوئی علاج نہیں۔ ہم آپ کو اپنے رسالہ میں ثابت کر کے دکھاویں گے کہ حال کے محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ نو برس تک بھی لڑکیاں بالغ ہو سکتی ہیں بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہو سکتی ہے