مکتوب نمبر۳
پادری فتح مسیح کے نام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰے۔ اما بعد واضح ہو کہ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سیّد و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی اور سوائے اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔ لہٰذا جواب شائع کیا گیا۔ امید کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہرحال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض میں ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے اور اب ہم اس کے خط کا جواب ذیل میں لکھتے ہیں۔ وھوہذا
مشفقی پادری صاحب۔ بعد ماوجب اس وقت مجھے بہت کم فرصت مگر میں نے جب آپ کا وہ خط دیکھا جو آپ نے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے نام بھیجا تھا۔ مناسب سمجھا کہ اپنے اس رسالہ کی جو زیر تالیف ہے خود ہی آپ کو بشارت دوں تا آپ کو زیادہ تکلیف اُٹھانے کی ضرورت نہ رہے۔ یاد رکھیں