کی اس تصدیق سے کچھ فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں کہ اس نے مسیح کو صاحب معجزہ قرار دیا ہے اور اس کی تصدیق سے مسلمانوں پر اپنی حجت قائم کرنا چاہتے ہیں تو اوّل لازم ہے کہ مسیح کی شرط کے موافق اپنے تئیں ایمان دار ثابت کریں مسیح تو ایک طور پر آپ لوگوں کو بے ایمان کہہ چکا۔ گویا کہ چکا کہ ان لوگوں سے دور رہو۔ یہ مجھ میں سے نہیں ہیں تو اس صورت میں آپ کو مسیح سے تعلق کیا اور مسیح کو آپ سے کیا اور آپ کو مسلمانوں سے بحث کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ جب تک کہ انجیل کے رو سے اپنے تئیں سچا مسیحی ثابت نہ کریں۔ مجھے یاد ہے تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ پادری ڈاکٹر وائٹ برنحیٹ صاحب جو مشن بٹالہ میں متعین ہیں ملاقات کیلئے معہ ایک دیسی عیسائی کے میرے مکان پر آئے تو میں نے کہا کہ پادری صاحب سچ کہیں کہ اس وقت کے عیسائی انجیل کے علامات کے رو سے سچے عیسائی کہلا سکتے ہیں تو پادری صاحب کے منہ سے صاف یہی نکل گیا کہ نہیں! پادری صاحب بٹالہ میں زندہ موجود ہیں دریافت کر لیں کہ آیا یہ میرا بیان صحیح ہے یا نہیں؟ پھر اگر قرآن نے مسیح کی تصدیق کی تو آپ لوگوں کو اس تصدیق سے کیا فائدہ جب تک انجیل کے علامات کے رو سے اپنے تئیں ایمان دار ثابت نہ کریں اور یاد رکھیں کہ یہ ہرگز ممکن نہیں تمام باتیں آپ کی دروغ اور لاف ہے۔ انسان کا پرستار آسمان سے مدد نہیں پا سکتا۔ جواب سے جلدی مسرور فرماویں اور بعض الفاظ اگر تلخ ہوں تو معاف فرماویں کیونکہ راست گوئی کو تلخی لازم پڑی ہوئی ہے۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ۳۱؍ جون ۱۸۹۳ء