خبر نہ ہو میں نہیں سمجھتا کہ یہ قول کس تعلیم کی بنا پر ہے۔ ہم کسی کام میں مخلوق سے نہیں ڈرتے۔ اگر یہ ثابت ہو کہ درحقیقت ابن مریم خدا ہے تو سب سے پہلے ہم اس پر ایمان لاویں اور کسی بے غیرتی اور مرنے سے نہ ڈریں لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ عاجز انسان ہے اور ہم میں سے ایک کی بھی آواز نہیں سن سکتا اور پھر اگر آپ طألب حق ہیں تو اس بحث کو کیوں چھپاتے ہیں کیا یہ اندیشہ ہے کہ اگر پادریوں کو خبر ہوگئی تو آپ نوکری سے برخاست کئے جائیں گے یا کوئی وظیفہ بند کیا جائے گا۔ چھپ چھپ کر بحث کرنا ایمان داروں کا کام نہیں۔ اور پھر آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن مسیح کے معجزات کا مصدق ہے کس قدر آپ کی بے خبری ثابت کرتا ہے۔ قرآن تو کہتا ہے کہ مسیح تو ایک عاجز بندہ تھا کبھی اُس نے خدائی کا دعویٰ نہ کیا اور اگر خدائی کا دعویٰ کرتا تو میں اُسے جہنم میں ڈالتا اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ملی کیونکہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی۔ پس قرآن کے رو سے مسیح کے منجی پاک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر قرآن مجید نے ایسے مسیح کی تصدیق کہاں کی جو اپنے تئیں خدا ٹھہراتا ہے بلکہ اس مسیح کی تصدیق کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایک عاجز بندہ کہلوایا۔ یہ سچ ہے کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم سے جو خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا ہے بعض معجزات بھی صادر ہوئے ہیں مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ مسیح کی وہی تعلیم تھی جس پر آپ لوگ اصرار کر رہے ہیں اور کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ جس ایمان کی طرف مسیح نے آپ کو بلایا تھا وہ ایمان آپ کو حاصل ہے۔ اے عزیز! ہر گز نہیں ہوگا۔ ہرگز ثابت نہیں ہوگا۔ جب تک مسیح کے قول کے موافق آپ میں ایمانداروںکی نشانیاں پائی نہ جائیں اور اگر آپ قرآن کریم