تو دو باتوں میں سے ایک بات ماننے پڑے گی یا تو یہ کہ آپ ایمان دار نہیں اور یا یہ کہ جس نے ایسی نشانیاں قرار دی ہیں وہ کذاب اور دروغ گو ہے جو جھوٹے وعدوں کی بنا پر اپنے مذہب کو چلانا چاہتا ہے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے میرے اس سوال کا کیا جواب دیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آپ نے اپنے خط میں ایسا ہی لکھا ہے کہ میں جو نشان چاہو دکھلا سکتا ہوں اور خداوند مسیح میری آواز سنتا ہے۔ اور اگر یہ سچ ہے تو اب آپ کو اس خداوند مسیح کی نسبت اتنی جلدی کیوں شک پڑ گیا اور آپ کا اپنے دوسرے خط میں یہ جواب لکھنا کہ پہلے آپ نشان دکھلاؤ۔ پھر اس قسم کا نشان میں دکھلاؤں گا۔ یہ صریح وعدہ شکنی ہے۔ دعویٰ کر کے پھر اس دعویٰ سے منہ پھیر لینا کیا یہ حق کے طالبوں کی نشانی ہے۔ جو شخص کسی نشان دکھلانے کیلئے توفیق دیا گیا ہے وہ پہلے بھی دکھا سکتا ہے اور بعد بھی۔ اچھا ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ نشان دیکھنے کے بعد ہی نشان دکھلا دیں لیکن آپ صاف طور پر اپنا اقرار تحریری لکھ بھیجیں کہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد یا تو میں اس کے مقابل یہ نشان دکھلاؤں گا اور یا بلاتوقف مسلمان ہو جاؤں گا اور اگر ایسا نہ کروں تو خدا تعالیٰ کی لعنت میرے پر ہو۔ پھر اس تحریر کے بعد ہم آپ کی پہلی تحریر کا آپ سے مؤاخذہ کریں گے اور یہ آپ کا کہا کہ ہم کسی کوٹھڑی میں بیٹھ جائیں اور اس میں نشان دکھلاویں گے یہ قرآن کریم کی تعلیم نہیں اور انجیل میں بھی پائی نہیں جاتی۔ شاید کوٹھڑیوں کا پُرانہ خیال ہندؤوں کی تعلیم سے آپ کے دل میں باقی رہا ہو۔ ہم لوگ اپنے ربّ کریم کی تعلیم سے قدم باہر نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں یہ حکم ہے کہ میدانوں میں آؤ اور میدانوںمیں اپنے دشمنوں کو ملزم کرو۔ سو ہم اپنے روشن چراغ کو کسی کوٹھڑی کے اندر چھپا نہیں سکتے بلکہ میدان کی اس اونچی جگہ پر رکھیں گے جس سے دور دور تک روشنی جائے ۔ اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ ان خطوط کی دوسرے کو