علیہ وسلم کی تلوار پر کیا تھا اس کا جواب بھی آخر کار تلوار ہی ہوگا۔ میری دانست میں یہی سبب مسلمانوں کے تنزل کا ہے کہ انسانی رحم کی قوت ان کے دلوں سے بہت گھٹ گئی ہے میں ہر ایک مسلمان کو ایسا نہیں سمجھتا لیکن میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کروڑہا انسان ابھی ان میں ایسے موجود ہیں کہ بنی نوع کے خون کے پیاسے ہیں مجھے تعجب ہے کہ کیا وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو کوئی قتل کر دے اور ان کے یتیم بچے اور ان کی بیوہ عورتیں بیکسی کی حالت میں رہ جائیں پھر وہ دوسروں کی نسبت ایسا کرنا کیوں روا رکھتے ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ مرض مسلمانوں کے لاحق حال نہ ہوتی تو وہ تمام یورپ کے دلوں کو فتح کر لیتے ہر ایک پاک کانشنس گواہی دے سکتا ہے کہ عیسائی مذہب کچھ بھی چیز نہیں انسان کو خدا بنا دینا کسی عقلمند کا کام نہیں یسوع مسیح میں اور انسانوں کی نسبت ایک ذرّہ خصوصیت نہیں بلکہ بعض انسان اس سے بہت بڑھ کر گزرے ہیں اور اب بھی یہ عاجز اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ تا خدائے قادر لوگوں کو دکھلاوے اور اس کا فضل اس عاجز پر اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور پھر یہ غلطیاں کہ گویا یسوع مسیح اب تک زندہ ہے اور گویا وہ آسمان پر ہے اور گویا وہ سچ مُچ مردے زندہ کیا کرتا تھا اور اس کے مرنے پر یروشلم کے تمام مردے جو آدم کے وقت سے لے کر مسیح کے وقت تک مر چکے تھے زندہ ہو کر شہر میں آ گئے تھے۔ یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں جیسا کہ ہندوؤں کے پورانوں میں ہیں اور سچ صرف اس قدر ہے کہ اس نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے اور جیسا کہ اب خدا تعالیٰ اب اس عاجز کے ہاتھ سے دکھلا رہا ہے مگر سچ کے کام تھوڑے تھے اور جھوٹ ان میں بہت ملایا گیا۔ کس قدر قابل شرم جھوٹ ہے کہ وہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گیا مگر اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وہ صلیب پر مرا نہیں واقعات صاف گواہی دیتے ہیں کہ مرنے کی کوئی بھی صورت نہیں تھی تین گھنٹہ کے اندر صلیب پر سے اُتارا گیا شدت درد سے بیہوش ہو گیا خدا کو منظور تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے۔ اس سلئے اس وقت بباعث کسوف خسوف سخت اندھیرا ہو گیا یہودی ڈر کر اس کو چھوڑ گئے اور یوسف نام ایک پوشیدہ مرید کے وہ حوالہ کیا گیا اور وہ تین روز ایک کوٹھ میں جو قبر کے نام سے مشہور کیا گیا رکھ کر آخر افاقہ ہونے پر ملک سے نکل