لیااور تمام گھر بجز چند حجروں کے جس میں اس مالک کے عزیز تھے یا جن میں اس مالک کا قیمتی اسباب مقفل تھا خود بخود استعمال میں لانے لگا اور اس سرائے کو اپنا گھر بنا لیا اور پھر پر کفایت نہ کی بلکہ اس گھر سے اس مالک کے عزیزوں کو نکال دیا اور مقفل مکانوں کے قفل توڑ دیئے اور تمام اسباب پر اپنا قبضہ کر لیا اب مالک جو صرف اس گھر کا مالک نہیں ہے بلکہ اس مُلک کا بادشاہ بھی ہے جب اس شہرمیں آئے گا اور اس ظلم اور شوخی کو دیکھے گا تو کیا کرے گا۔ اس کا یہی حواب ہے کہ جو کچھ مقتضا اس کی سلطنت اور غیرت اور جبروت کا ہے سب کچھ عمل میں لائے گا اور اس گھر کو اس ظالم سے خالی کرا کر پھر اپنے مظلوم عزیزوں کو اس میں داخل کرے گا اور وہ تمام مال جو غصب کیا گیا ان کو دے گا اور وہ مسافر خانہ بھی انہیں عطا کردے گا تا آئندہ ان کے مرضی کے برخلاف کوئی اس میں زیادہ ٹھہر نہ سکے اسی طرح اب وہ زمانہ گیا کہ تمام مذہبی جھگڑوں کا فیصلہ کر دیوے۔ انسانوں میں بہت سی لڑائیاں ہوئیں بہت سے جنگ ہوئے لیکن ان کے جنگوں یا جہادوں سے یہ فیصلہ نہ ہو سکا آخر ان کی تلواریں ٹوٹ کر رہ گئیں اس سے انسانوں کو یہ سبق ملا کہ مذہبی جھگڑوں کا تلوار سے فیصلہ نہیں کر سکتی لیکن ہم جانتے ہیں کہ اب آسمانی فیصلہ نزدیک ہے کیونکہ خدائے غیور کی زمین پر نہایت تحقیر ہو رہی ہے ہر ایک عیسائی مشنری یہ جوش اپنے دل میں رکھتا ہے کہ وہ خدا جس کی نسبت توریت میں اب تک صحیح تعلیم موجود ہے اس کو بالکل معطل کر کے ایک ابن مریم کو اس کا تخت دیا جائے اور دنیا میں ایک بھی اس خدا کانام لیوا نہ ہو اور ہر ایک قوم کے منہ سے اور ہر ایک ملک سے یہی آواز نکلے کہ یسوع مسیح خدا اور ربّ العالمین اور خداوندوں کا خداوند ہے اور یہ صرف آرزو نہیں بلکہ یسوع کو خدا بنانے کیلئے جس قدر روپیہ صرف کیا گیا ہے جس قدر کتابیں لکھی گئیں جس قدر ہر ایک تدبیر کی گئی دنیا کی ابتدا سے آج تک اس کی نظیر موجود نہیں اور افسوس کہ ایک مدت سے مسلمانوں کی یہ عادت ہے کہ معقول اور سیدھے طور پر اس مذہب کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اگر خاص مجمعوں میں کبھی یہ ذکر آتا ہے تو بڑا ذریعہ اپنی ترقی کا جہاد کو ٹھہراتے ہیں اور ایسے زمانہ کے منتظر ہیں کہ گویا اس وقت ان کا کوئی مہدی اور مسیح تلوار سے تمام قوموں کو نابود کر دے گا گویا وہ اعتراض جو نادانوں نے آنحضرت صلی اللہ