گیا اور نہایت مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ پھر وہ سیر کرتا ہوا کشمیر میں آیا باقی حصہ عمر کا کشمیر میں بسر کیا۔ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے افسوس خواہ نخواہ افترا کے طور پر آسمان پر چڑھایا گیا اور آخر قبر کشمیر میں ثابت ہوئی اس بات کے ایک دو گواہ نہیں بلکہ بیس ہزار سے زیادہ گواہ ہیں۔
اس قبر کے بارے میں ہم نے بڑی تحقیق سے ایک کتاب لکھی ہے جو عنقریب شائع کی جائے گی مجھے اس قوم کے مشنریوں پر بڑا ہی افسوس آتا ہے جنہوں نے فلسفہ طبعی ہیئت سب پڑھ کر ڈبو دیا ہے اور خواہ نخواہ ایک عاجز انسان کو پیش کرتے ہیں کہ اس کو خدا مان لو۔ نانچہ حال میں ملک امریکہ میں یسوع مسیح کا ایک رسول پیدا ہوا ہے جس کا نام ڈوئی ہے اس کا دعویٰ ہے کہ یسوع مسیح نے بحیثیت خدائی دنیا میں اس کو بھیجا ہے تا سب کو اس بات کی طرف کھینچے کہ بجز مسیح کے اور کوئی خدا نہیں مگر یہ کیسا خدا ہے کہ یہودیوں کے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا ایک دعا باز شاگرد نے اس کو پکڑوا دیا اس کا کچھ بندوبست نہ کر سکا انجیر کے درخت کی طرف دوڑا گیا اور یہ خبر نہ ہوئی کہ اس پر پھل نہیں اور جب قیامت کے بارے میں اس سے پوچھا گیا کہ کب آئے گی تو بے خبری ظاہر کی اور لنعت جس کے یہ معنی ہیں کہ دل ناپاک ہو جائے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا سے اس کی رحمت سے دور جاپڑے وہ اس پر پڑی اور پھر وہ آسمان کی طرف اس لئے چڑھا کہ باپ اس سے بہت دور تھا کروڑ ہا کوس سے بھی زیادہ دور تھا اور یہ دوری کسی طرح دور نہیں ہو سکتی تھی جب تک وہ مع جسم آسمان پر نہ چڑھتا۔ دیکھو کس قدر کلام کا تناقض ہے ایک طرف تو یہ کہتا ہے کہ میں اور باپ ایک ہیں اور ایک طرف کروڑ ہا کوس کا سفر کر کے اس کے ملنے کو جاتا ہے جب کہ باپ اور بیٹا ایک تھے تو اس قدر مشقت سفر کی کیوں اُٹھائی جہاں ہوتا وہیں باپ بھی تھا دونو ایک جو ہوئے اور پھر وہ کس کے دہنے ہاتھ بیٹھا۔
اب ہم ڈوئی کو مخاطب کرتے ہیں جو یسوع مسیح کو خدا بناتا اور اپنے تئیں اس کا رسول قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ توریت استثنا ۱۸ باب آیت پندرہ کی پیشگوئی میرے حق میں ہے اور میں ہی ایلیا اور میں ہی عہد نامہ کا رسول ہیں، نہیں جانتا کہ یہ مصنوعی خدا اس کا موسیٰ کے کبھی خواب خیال