ہیں تو پھر یکطرفہ اس عاجز کی طرف سے سہی مجھ کو بسروچشم منظور ہے آپ اقرار نامہ حسب نمونہ مرقومہ بالا شائع کریں اور جس وقت آپ فرماویں میں بلاتوقف امرتسر حاضر ہو جاؤں گا یہ تو مجھ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ عیسائی مذہب اسی دن سے تاریکی میں پڑا ہوا ہے جب سے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کی جگہ دی گئی اور جب کہ حضرات عیسائیوں نے ایک سچے اور کامل اور مقدس نبی افضل الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اس لئے میں یقینا جانتا ہوں کہ حضرت عیسائی صاحبوں میں سے یہ طاقت کسی میں بھی نہیں کہ اسلام کے زندہ نوروں کا مقابلہ کر سکیں میں دیکھتا ہوں کہ وہ نجات اور حیات ابدی جس کا ذکر عیسائی صاحبوں کی زبان پر ہے وہ اہل اسلام کے کامل افراد میں سورج کی طرح چمک رہی ہے اسلام میں یہ ایک زبردست خاصیت ہے کہ وہ ظلمت سے نکال کر اپنے نور میں داخل کرتا ہے جس نور کی برکت سے مومن میں کھلے کھلے آثار قبولیت پیدا ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ میسر آ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی محبت کی نشانیاں اس میں ظاہر کر دیتا ہے میں زور سے اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایمانی زندگی صرف کامل مسلمان کو ہی ملتی ہے اور یہی اسلام کی سچائی کی نشانی ہے۔ اب آپ کے خط کا ضروری جواب ہو چکا اور یہ اشتہار ایک رسالہ کی صورت پر مرتب کر کے آپ کی خدمت میں اور نیز ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب کی خدمت میں بذریعہ رجسٹری روانہ کرتا ہوں اب میری طرف سے حجت پوری ہوچکی آئندہ آپ کو اختیار ہے۔ راقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور قبل اس کے کہ اس خط کا ترجمہ درج کیا جاوے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امریکہ کے اس مفتری الیاس کو بطور چیلنج لکھا تھا یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ناظرین کو مختصر طور پر اس شخص سے تعارف کرا دی جاوے پس یاد رہے کہ جان الگزینڈر ڈوئی سکاٹ لینڈ کا