اصل باشندہ تھااور امریکہ میں پہلے پہل ۱۸۸۸ء میں پہنچا۔ سان فرانسسکو میں اُترا اس سے پہلے کچھ مدت وہ ٹسمانیہ کے جیل خانہ میں بھی رہ چکا تھا۔ ۱۸۹۲ء میں اس نے وعظ کرنا شروع کیا اور اس کے ایک الگ فرقہ کی بنیاد رکھنی شروع کی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مَیں لوگوں کو بیماریوں سے شفا دے سکتا ہوں اور اسی دعویٰ کی وجہ سے کئی زود اعتقاد اور توہم پرست لوگ اس کے ساتھ شامل ہوگئے ان لوگوں کے روپے سے وہ ایک امیر آدمی بن گیا اور ۱۹۰۰ء میں موجودہ شہر سہیون کی زمین خریدی جس کے ٹکڑے پھر اپنے ہی مریدوں کے ہاتھ ایک بڑے گراں نرخ پر بیچے اور یہ ظاہر کیا کہ عنقریب مسیح موعود اسی شہر میں نازل ہوگا۔ ۲؍ جون ۱۹۰۱ء کو اس نے یہ دعویٰ اپنا شائع کیا کہ میں الیاس ہوں جو مسیح کی آمد کیلئے لوگوں کو تیار کرنے آیا ہوں۔ اس دعویٰ سے اس کے روپے اور مریدوں میں اور بھی ترقی ہوئی روپے کی کثرت یہاں تک ہوئی کہ سال کے شروع میں وہ دس لاکھ ڈالر یعنی تیس لاکھ روپے سے بھی زیادہ روپیہ اپنے مریدوں سے نئے سال کے تحفے کے طور پر مانگا کرتا تھا اور جب سفر کرتا تو اعلیٰ درجے کے عیش و عشرت کے سامان اس کے ساتھ ہوتے۔ ۱۹۰۴ء میں اس نے یہ پیشگوئی شائع کی کہ اگر مسلمان صلیبی مذہب کو قبول نہ کریں گے تو وہ سب کے سب ہلاک کر دیئے جائیں گے اور بھی وہ ہر طرح سے اسلام کی ہتک اور توہین نہایت بیباکی سے کرتا۔ جب اس نے اسلام پر ایسے ایسے حملے کئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ مسیح موعود کے دل میں غیرت کا جوش ڈالا اور آپ نے ستمبر ۱۹۰۲ء میں اسے انگریزی میں ایک چٹھی لکھی جو اسی رسالہ ریویو آف ریلینجز کے ستمبر ۱۹۰۴ء کے پرچہ میں شائع ہوچکی ہے جس میں حضرت مسیح موعود نے اُسے مباہلہ کے لئے دعوت کی۔ خلاصہ اس ساری چٹھی کا یہ تھا کہ دونوں فریق دعا کریں کہ جو شخص ہم سے جھوٹا ہے خدا تعالیٰ اُسے سچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔ یہ ڈوئی کی اس پیشگوئی کا جواب تھا جو اس نے تمام اہل اسلام کی ہلاکت کیلئے کی تھی یہ چٹھی بڑی کثرت سے امریکہ کے اخباروں میں شائع ہوئی اور انگلستان کے بعض نے بھی شائع کیا۔ یہاں تک کثرت سے اس کی اشاعت ہوئی کہ ہمارے پاس بھی ایسی بہت سی اخباریں پہنچ گئیں جن میں اس مباہلہ کاذکر تھا۔ یہاں چونکہ مفصل واقعات لکھنا مقصود نہیں اس لئے اسی قدر پر اکتفا کیا جتا ہے یہ شخص پیشگوئی کے