میں بلکہ میرے اشتہار مجریہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں بقیہ میعاد یہ شائع بھی ہو چکا ہے تو آپ کا اس وقت فرض عین ہے یا نہیں کہ اس نشان سے بھی فائدہ اُٹھاویں اور اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور براہ مہربانی مجھ کو اطلاع دیں کہ کیا اصلاح کی اور کس قدر عیسائی اصول سے آپ دستبردار ہوگئے کیونکہ یہ نشان تو کچھ پرانا نہیں ابھی کل کی بات ہے کہ نور افشاں اور میرے اشتہار ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا تھا اور آپ کے یہ تمام شرائط کے موافق ہے میرے نزدیک آپ کے انصاف کا یہ ایک معیار ہے اگر آپ نے اس نشان کو مان لیا اور حسب اقرار اپنے اپنی غلطی کی بھی اصلاح کی تو مجھے پختہ یقین ہوگا کہ اب آئندہ بھی آپ اپنی بڑی اصلاح کیلئے مستعد ہیں اس نشان کا اس قدر تو آپ پر اثر ضرور ہونا چاہئے کہ کم سے کم آپ یہ اقرار اپنا شائع کر دیں کہ اگرچہ ابھی قطعی طور پر نہیں مگر ظن غالب کے طور پر دین اسلام ہی مجھے سچا معلوم ہوتا ہے کیونکہ تحدی کے طور پر اُس کی تائید کے بارہ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ پوری ہوگئی آپ جانتے ہیں کہ امام الدین دین اسلام سے منکر اور ایک دہریہ آدمی ہے اور اس نے اشتہار کے ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور اس عاجز کے ملہم ہونے کے بارے میں ایک نشان طلب کیا تھا جس کو خداتعالیٰ نے نزدیک کی راہ سے اُسی کے عزیزوں پر ڈال کر اس پر اتمام حجت کی۔ آپ اِس نشان کے رؤیا قبول کے بارے میں ضرور جواب دیں ورنہ ہمارا یہ ایک پہلا قرضہ ہے جو آپ کے ذمے رہے گا۔ قولہ: مباہلات بھی از قسم معجزات ہی ہیں مگر ہم بروئے تعلیم انجیل کسی کے لئے لعنت نہیں مانگ سکتے جناب صاحب اختیار ہیں جو چاہیں مانگیں اور انتظار جواب ایک سال تک کریں۔ اقول: صاحب من مباہلہ میں دوسرے پر لعنت ڈالنا ضروری نہیں بلکہ اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ مثلاً ایک عیسائی کہے کہ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ درحقیقت حضرت مسیح خدا ہیں اور قرآن خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اگر میں اس بیان میں کاذب ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر لعنت کرے سو یہ صورت مباہلہ انجیل کے مخالف نہیں بلکہ عین موافق ہے آپ غور سے انجیل کو پڑھیں۔ ماسوائے اس کے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اگر آپ نشان نمائی کے مقابلہ سے عاجز