استبعاد عقلی ہے اور کونسی حجب منطقی اس حرکت سے ان کو روکتی ہے اور کسی برہان لمی یا اِنّیسے لازم آتا ہے کہ دنیا کی طرف انتقال اُن سب کا ہر سرشٹی کے دورہ میں جائز بلکہ واجب ہے۔ لیکن کوچ اُن سب کا مکتی یافتوں کے کوچہ کی طرف ممتنع اور محال ہے۔ مجھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس عالم دنیا کی طرف کونسی پختہ سڑک ہے کہ سب ارواح اس پر بآسانی آتے جاتے ہیں ایک بھی باہر نہیں رہ جاتی۔ اور اُن مکتی یافتوں کے راستہ میں کونسا پتھر پڑا ہوا ہے کہ اس طرف اُن سب کا جانا ہی محال ہے کیا وہ خدا جو سب ارواح کو موت اور جنم دے سکتا ہے سب کو مکتی نہیں دے سکتا۔ جب ایک طور پر سب ارواح کی حالت متغیر ہو سکتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ دوسرے طور سے وہ حالت قابل تغیر نہیں اور نیز کیا یہ بات ممکن نہیں جو خدا اُس سب ارواح کا یہ نام رکھ دے کہ مکتی یاب ہیں۔ جیسا اب تک یہ نام رکھا ہوا ہے کہ مکتی یاب نہیں کیونکہ جن چیزوں کی طرف نسبت سلبی جائز ہو سکتی ہے بیشک اُن چیزوں کی طرف نسبت ایجابی بھی جائز ہے اور نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ قضیہ کہ سب ارواح موجودہ نجات پا سکتے ہیں اس حیثیت سے زیر بحث نہیں کہ محمول اس قضیہ کا جو نجات عام ہے مثل کسی جزئی حقیقی کے قابل تنقیع ہے بلکہ اس جگہ مجوث عنہ امر کلی ہے یعنی ہم کلی طور پر بحث کرتے ہیں کہ ارواح موجودہ نے جو ابھی مکتی نہیں پائی آیا بموجب اصول آریہ سماج کے اس امر کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں کہ کسی طور کا عارضہ عام خواہ مکتی ہو یا کچھ اور ہو اُن سب پر طاری ہو جائے سو آریہ صاحبوں کے ہم ممنون بمنت ہیں جو اُنہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ یہ عارضہ عام بعض صورتوں میں سب ارواح پر واقع ہے جیسے موت اور جنم کی حالت سب ارواح پر عارض ہو جاتی ہے۔ اب باوا صاحب خود ہی انصاف فرماویں کہ جس حالت میں دو مادوں میں اس عارضہ عام کے خود ہی قائل ہوگئے تو پھر اس تیسرے مادے