میں جو سب کا مکتی پانا ہے انکار کرنا کیا وجہ ہے۔
پھر باوا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ علاوہ زمین کے سورج اور چاند اور سب ستاروں میں بھی بکثرت جانور آباد ہیں اور اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ثابت ہو گیا کہ بس بے انت ہیں۔ پس باوا صاحب پر واضح رہے کہ اوّل تو یہ خیال بعض حکماء کا ہے جس کو یورپ کے حکیموں نے اخذ کیا ہے اور ہماری گفتگو آریہ سماج کے اصول پر ہے۔ سوا اس کے اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ آریہ سماج کا بھی یہی اصول ہے تو پھر بھی کیا فائدہ کہ اس سے بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہوتا۔ اس سے تو صرف اتنا نکلتا ہے کہ مخلوقات خدا تعالیٰ کی بکثرت ہے۔ ارواح کے بے انت ہونے سے اس دلیل کو کیا علاقہ ہے پر شاید باوا صاحب کے ذہن میں مثل محاورہ عام لوگوں کے یہ سمایا ہوا ہوگا کہ بے انت اُسی چیز کو کہتے ہیں جو بکثرت ہو۔ باوا صاحب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں یہ سب اجسام ارضی اور اجرام سماوی بموجب تحقیق فن ہئیت اور علم جغرافیہ کے معدود اور محدود ہیں تو پھر جو چیزیں ان میں داخل ہیں کس طرح غیر محدود ہو سکتی ہیں اور جس صورت میں تمام اجرام و اجسام زمین و آسمان کے خدانے گنے ہوئے ہیں تو پھر جو کچھ ان میں آباد ہے وہ اس کی گنتی سے کب باہر رہ سکتا ہے۔ سو ایسے دلائل سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ کام تو تب بنے کہ آپ یہ ثابت کریں کہ ارواح موجودہ تمام حدود و قیود ظروف مکانی اور فضائے عالم سے بالاتر ہیں کیونکہ خدا بھی انہیںمعنوں پر بے انت کہلاتا ہے اگر ارواح بے انت ہیں تو وہی علامات ارواح میں ثابت کرنی چاہئیں۔ اس لئے کہ بے انت ایک لفظ ہے کہ جس میں بقول آپ کے ارواح اور باری تعالیٰ مشارکت رکھتے ہیں اور اس کا حدتام بھی ایک ہے۔ یہ بات نہیں کہ جب