انسان کے دل میں جبریلی نور کے پرَتوہ سے پیداہو جاتی ہے اس کے وجود کے لئے یہ امر لازم نہیں کہ ہر وقت انسان خدائے تعالیٰ کا پاک کلام سنتا ہی رہے یا کشفی طور پر کچھ دیکھتاہی رہے بلکہ یہ تو انوار سماویہ کے پانے کے لئے اسباب قریبہ کی ؔ طرح ہے یا یوں کہو کہ یہ ایک روحانی روشنی روحانی آنکھوں کے دیکھنے کے لئے یا ایک روحانی ہوا روحانی کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے منجانب اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی چیز سامنے موجود نہ ہو مجرد روشنی کچھ دکھا نہیں سکتی۔ اور جب تک متکلّم کے منہ سے کلام نہ نکلے مجرد ہوا کانو ں تک کوئی خبر نہیں پہنچا سکتی۔ سو یہ روشنی یا یہ ہوا روحانی حواس کے لئے محض ایک آسمانی مؤیّد عطا کیا جاتاہے جیسے ظاہری آنکھو ں کے لئے آفتاب کی روشنی اور ظاہری کانوں کے لئے ہوا کا ذریعہ مقرر کیا گیا ہے اور جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتاہے کہ اپنا کلام اپنے کسی ملہم کے دل تک پہنچا وے تو اسکی اس متکلمانہ حرکت سے معاََ جبریلی نور میں القا کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا ملہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے اور اس تموّج یااس حرارت سے بلا توقف وہ کلام ملہم کی آنکھو ں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتاہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاریؔ ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے۔ یہ دونوں قوتیں اس لئے عطاکی جاتی ہیں کہ تاقبل از نزول الہام‘الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جاتا کہ ملہم کا دل حواس روحانی سے محروم ہوتا یا روح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہام الٰہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا۔ سو اسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی سے ملہمین کو عطا کی گئیں۔ اور اس تحقیق سے یہ بھی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وحی کے متعلق جبریل کے تین کام ہیں۔