اوّل یہ کہ جب رِحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلّشانہٗ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہمانہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے تب ایسے شخص کی فطرت منجانب اللہ الہامی خاصیت پیداؔ کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مل جاتے ہیں۔ پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آپڑتی ہے تو خدائے تعالےٰ کی مربّیانہ حرکت کی وجہ سے جبریلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہو کر محب صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محب صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اس میں پیداہو جاتی ہے۔جو ایک روشنی یا ہوا یاگرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکۂ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتاہے اور دوسرا ملہم کے دل کے اندر داخل ہوجاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں روح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں۔ تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آ کر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے سامنے کر دیتا ہے یا حرارت محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیداکر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلا تا ہے۔ اسؔ جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے