لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجا لاوے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجالا رہے ہیں سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرؔ ے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے توحسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتاہے اُس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے۔ یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلاارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتاہے کہ جیسا کہ اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔ پس جب جبریلی نور خدائے تعالےٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آجاتاہے تو معاََ اس کی عکسی تصویر جس کو روح القد س کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیئے محبت صادق کے دل میں منقّش ہو جاتی ہے۔ اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائباؔ ت کے دیکھنے کے لئے آنکھو ں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہو نے کے لئے ایک ایسی محرّک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدانہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی طرح ہوتاہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہو۔ لیکن یاد رہے کہ یہ قوت جو روح القدس سے موسوم ہے ہر یک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نور اس پر اثر ڈالتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے