مخلوقات کے توسط سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور کوئیؔ ایسا ارادہ نہیں کہ بغیر ان وسائط کے زمین پر ظاہر ہوتا ہو۔ یہی قدیمی قانون قدرت ہے کہ جو ابتدا سے بندھا ہوا چلا آتاہے مگر ان لوگوں کی سمجھ پر سخت تعجب ہے کہ وہ ظاہری بارش ہونے کے لئے جو بادلوں کے ذریعہ سے زمین پر ہوتی ہے بخارات مائیہ کا توسط ضروری خیال کرتے ہیں اور خودبخود قدرت سے بغیر بادل کے بارش ہو جانا محال سمجھتے ہیں لیکن الہام کی بارش کے لئے جو صاف دلوں پر ہوتی ہے ملائک کے بادلوں کا توسط جو عند الشرع ضروری ہے اُس پر جہالت کی نظر سے ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالےٰ بغیر ملائک کے توسط کے خود بخود الہام نہیں کر سکتاتھا۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر توسط ہوا کے آواز سن لینا خلاف قانون قدرت ہے مگر وہ ہوا جو روحانی طور پر خدائے تعالیٰ کی آواز کو ملہموں کے دلوں تک پہنچاتی ہے اس قانون قدرت سے غافل ہیں۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی بصارت کے لئے آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہے مگر وہ روحانی آنکھوں کے لئے کسی آسمانی روشنی کی ؔ ضرورت یقین نہیں رکھتے۔ اب جبکہ یہ قانون الٰہی معلوم ہو چکا کہ یہ عالم اپنے جمیع قویٰ ظاہری و باطنی کے ساتھ حضرت واجب الوجود کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور ہر یک چیز اپنے اپنے محل اور موقعہ پراعضا ہی کا کام دے رہی ہیں اور ہر یک ارادہ خدائے تعالیٰ کا انہیں اعضا کے ذریعہ سے ظہور میں آتاہے۔ کوئی ارادہ بغیر ان کے تو سط کے ظہور میں نہیں آتا۔ تو اب جاننا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ کی وحی میں جو پاک دلوں پر نازل ہوتی ہے جبریل کا تعلق جو شریعت اسلام میں ایک ضروری مسئلہ سمجھا گیا اور قبول کیا گیا ہے یہ تعلق بھی اسی فلسفہ حقہ پر ہی مبنی ہے جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حسب قانون قدرت مذکورہ بالا یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القا یا ملکہ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدائے تعالیٰ کے الہامی اور روحانی ارادہ کو بمنصہ ظہور