پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کل اعضا یا بعض میں جیسا کہ اس قیوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بیان مذکور ہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیّلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار َ پیر اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس وجوداعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔ اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضا ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلّی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضا میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہو گا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاکے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے پس یہی ایک عام فہم مثال اسؔ روحانی امر کی ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جزو خدائے تعالےٰ کے ارادوں کی تابع اور اس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے اور کمال درجہ کی اطاعت سے اس کے ارادوں کی راہ میں محو ہو رہی ہے اور یہ اطاعت اس قسم کی ہرگز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو بلکہ ہر یک چیز کو خدائے تعالےٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر یک ذرّہ ایسا بالطبع اس کی طرف جھکا ہوا معلوم ہوتاہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضا اس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس درحقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اس وجود اعظم کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العٰلمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔ ہر یک ارادہ اس قیوم کا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی دینی ہے یا دنیوی اسی