تا خد ا تعالیٰ سے لڑنے والا نہ ٹھہرے۔ دنیا کے لوگ جو تاریک خیال اور اپنے پُرانے تصوّرات پر جمے ہوئے ہیں وہ اس کو قبول نہیں کریں گے مگر عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جو اُن کی غلطی اُن پر ظاہر کردے گا۔ ” دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہیں کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔“ یہ انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور ربِّ جلیل کا کلا م ہے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اُن حملوں کے دن نزدیک ہیں۔ مگر یہ حملے تیغ و تبر سے نہیں ہوں گے اور تلواروں اور بندوقوں کی حاجت نہیں پڑے گی بلکہ روحانی اسلحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اترے گی اور یہودیوں سے سخت لڑائی ہوگی۔ وہ کون ہیں ؟ اس زمانہ کے ظاہر پرست لوگ جنہوں نے بالا تفاق یہودیوں کے قدم پر قدم رکھا ہے اُن حرام کے ارتکاب سے کو ئی کراہت اور نفرت باقی نہیں رہی خدا تعالیٰ کے بزرگ حکم تاویلوں کے ساتھ ٹال دئے جاتے ہیں۔ ہمارے اکثر علماءبھی اُس وقت کے فقیہوں اور فریسیوں سے کم نہیں۔ مچھر چھانتے اور اونٹ کو نگل جاتے ہیں۔آسمان کی بادشاہت لوگوں کے آگے بندکرتے ہیں نہ تو آپ اس میں جاتے ہیں اور نہ جانے والوں کو جانے دیتے ہیں۔ لمبی چوڑی نمازیں پڑھتے ہیں مگرمیں اُس معبود حقیقی کی محبت ا ورعظمت نہیں۔ منبروں پر بیٹھ کر بڑی رقّت آمیز وعظ کرتے ہیں مگر اُن کے اندرونی کام اَور ہی ہیں۔عجیب ہیں اُن کی آنکھیں کہ باوجود اُن کے دلوں کی سرکشی اور مفسدانہ ارادوں کے رونے کا بہت ملکہ رکھتی ہیں۔ اور عجیب ہیں انکی زبانیں کہ باوجود سخت بیگانہ ہونے دلوں کے آشنائی کا دم بھرتی ہیں۔ اسی طرح یہودیت کی خصلتیں ہر طرف پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔تقویٰ اور خدا ترسی میں بڑا فرق آگیا ہے۔ ایمانی کمزوری نے الٰہی محبت کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ دنیا کی محبت میں لوگ دبے جاتے ہیں اورضرور تھا کہ ایساہی ہوتا کیونکہ حضرت عالی سیّدنا و مولانا صلی اللہ علیہ وسلم بطور پیشگوئی فرماچکے ہیں کہ” اس اُمّت پر ایک زمانہ آنیوالا ہے جس میں وہ یہودیوں سے سخت درجہ کی مشابہت پیدا کرلیگی اور وہ سارے کام کردکھائے گی جو یہودی کرچکے ہیںیہاں تک کہ اگر یہودی