رُک نہیں سکتا کہ مَیں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اﷲ مردخدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیرو ڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ سوجب دوسرا کلیم اﷲ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سیّدالانبیاءہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے ۱ تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اوّل کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پا کر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میںآسمان سے اُترا اور وہ اُترنا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اﷲکی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اورسب باتوں میں اُسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اُترا جو مسیح ابن مریم کے اُترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔ ٭ پس ہر ایک کو چا ہیئے کہ اس سے انکار کرنے میں جلدی نہ کرے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ ظاہر پرستی اور روح اور حقیقت سے دُوری اور دیانت اور امانت سے محرومی اور سچائی اور اخلاقی پاکیزگی سے مہجوری اور لالچ اور بُخل اور حُبّ ِ دنیا سے معموری اس زمانہ میں عام طور پر ایسی ہی پھیل گئی ہے کہ جیسے حضرت مسیح ابن مریم کے ظہور کے وقت یہودیوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ پس جیسے یہودی لوگ اُس زمانہ میں بکلّی حقیقی نیکی سے بے خبر ہو گئے تھے۔ صرف رسوم اور عادات کو نیکی سمجھتے تھے اور علاوہ اس کے دیانت اور امانت اور اندرونی صفائی اور عدالت اُن میںسے بالکل اٹھ گئی تھی۔ سچی ہمدردی اور سچے رحم کا نام و نشان نہیں رہا تھا اور انواع واقسام کی مخلوق پرستی نے معبود حقیقی کی جگہ لے لی تھی۔ ایسا ہی اس زمانہ میں یہ تمام بلائیں ظہور میں آگئی ہیں۔ حلال چیزوں کو شکر اور مشکورانہ فروتنی کے ساتھ استعمال نہیں کیا جاتا۔