سب کو آسمانی سیف اللہ دو ٹکڑے کرے گی اور یہودیّت کی خصلت مٹا دی جائے گی اور ہر ایک حق پوش دجّال دنیا پرست یک چشم جو دین کی آنکھ نہیں رکھتا ُحجت قاطعہ کی تلوار سے قتل کیا جائے گااور سچائی کی فتح ہو گی اور اسلام کے لئے پھر اُ س تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔ لیکن ابھی ایسا نہیں۔ ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلّتیں قبول نہ کرلیں۔ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے ؟ہمارا اسی راہ میں مرنا۔ یہی موت ہے جس پر
چوہے کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو وہ بھی داخل ہوگی۔ تب فارس کی اصل میں سے ایک ایمان کی تعلیم دینے والا پیدا ہوگا۔ اگر ایمان ثریّا میں معلّق ہوتا تو وہ اُسے اُس جگہ سے بھی پالیتا“۔ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جس کی حقیقت الہامِ الٰہی نے اس عاجز پر کھول دی اور تصریح سے اسکی کیفیت ظاہر کر دی اور مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے کھول دیا کہ حضرت مسیح ابن مریم بھی در حقیقت ایک ایمان کی تعلیم دینے والاتھا جو حضرت موسیٰ سے چودہ ۰۰۴۱ سو برس بعد پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں جبکہ یہودیوں کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہو گئی تھی اور وہ بوجہ کمزوری ایمان کے اُن تمام خرابیوں میں پھنس گئے تھے جو در حقیقت بے ایمانی کی شاخیں ہیں۔ پس جبکہ اس اُمت کو بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے عہد پر چودہ ۰۰۴۱ سو برس کے قریب مدّت گزری تو وہی آفات اِن میں بھی بکثرت پیدا ہو گئیں جو یہودیوں میں پیدا ہوئی تھیں تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو اُن کے حق میں کی گئی تھی۔ پس خدا تعالیٰ نے اِن کے لئے بھی ایک ایمان کی تعلیم دینے والا مثیل مسیح اپنی قدرت کاملہ سے بھیج دیا۔ مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔ جس کسی کے کان سُننے کے ہوں سُنے۔ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔ اور اگر کوئی اس امر کی تکذیب کرے تو پہلے راستبازوں کی بھی تکذیب ہوچکی ہے۔یو حنا یعنی یحییٰ کو