اندھیری رات سے بھی انسان کامل کو ایک مشابہت ہے کہؔ وہ باوجود غایت درجہ کے انقطاع اور تبتل کے جو اُس کو منجانب اللہ حاصل ہے بہ حکمت و مصلحت الٰہی اپنے نفس کی ظلمانی خواہشوں کی طرف بھی کبھی کبھی متوجہ ہو جاتاہے یعنی جوجو نفس کے حقوق انسان پر رکھے گئے ہیں جو بظاہر نورانیت کے مخالف اور مزاحم معلوم ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا سونا اور بیوی کے حقوق اداکرنا یا بچوں کی طرف التفات کرنا یہ سب حقوق بجا لاتا ہے اور کچھ تھوڑی دیر کے لئے اس تاریکی کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے بلکہؔ اس وجہ سے کہ خداوند علیم و حکیم اس کواس طرف توجہ بخشتا ہے تاروحانی َ تعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر ان مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جیسا کہ کسی کا شعر ہے
چشم شہباز کاردانانِ شکار
از بہر کشادن ست گردوختہ اند
سو اسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطر اور گدازش اور ہم و غم کے غلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں تو پھرجسم ناتواں ان کا روح کی رفاقت کے
لئے
مختلف قسموں کی تاثیرات ڈالتا ہے اور ہر یک متشکل کی وجہ سے ایک خاص نام اُسکو حاصل ہے اور یکشنبہ دو شنبہ سہ شنبہ وغیرہ درحقیقت باعتبار خاص خاص تعینات و لوازم و تاثیرات کے سورج کے ہی نام ہیں جب یہ لوازم خاصہ بولنے کے وقت ذہن میں ملحوظ نہ رکھے جائیں اور صرف مجرد اور اطلاقی حالت میں نام لیا جائے تو اس وقت سورج کہیں گے لیکن جب اسی سورج کے خاص خاص لوازم اور تاثیرات اور مقامات ذہن میں ملحوظؔ رکھ کر بولیں گے تو اسکو کبھی دن کہیں گے اور کبھی رات ۔ کبھی اسکا نام اتوار رکھیں گے اور کبھی پیر اور کبھی سانون اور کبھی بھا دوں کبھی اسوج کبھی کاتک۔غرض یہ سب سورج کے ہی نام ہیں اور نفس انسان باعتبار مختلف تعینات اور مختلف اوقات و مقامات و حالات مختلف ناموں سے موسوم ہو جاتا ہے کبھی نفس زکیہ کہلاتا ہے اور کبھی امّارہ کبھی اور لوّامہ اور کبھی مطمئنہ ۔ غرض اس کے بھی اتنے ہی نام ہیں جس قدر سورج کے مگر بخوفِ طول اسی قدر بیان کرنا کافی سمجھا گیا ۔ منہ