ازسر نو قوی اور توانا ہو جاتا ہے اور اس تھوڑی سی محجوبیت کی وجہ سے بڑے بڑے مراحل نورانی طے کر جاتاہے اور ماسوااِس کے نفس انسان میں رات کے اور دوسرے خواص دقیقہ بھی پائے جاتے ہیں جن کو علم ہیئت اور نجوم اور طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو آسمان سے بھی مشابہت ہے مثلاً جیسے آسمان کا پول اس قدر وسیع اور کشادہ ہے کہ کسی چیز سے پُر نہیں ہو سکتا ایسا ہی ان بزرگوں کا نفس ناطقہ غایت درجہ کی وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور باوجود ہزارہا معارف و حقائق کے حاصل کرنے کے پھرؔ بھی ماعرفناک کا نعرہ مارتا ہی رہتا ہے اور جیسے آسمان کا پول روشن ستارو ں سے پُر ہے ایسا ہی نہایت روشن قویٰ اس میں بھی رکھے گئے ہیں کہ جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو زمین سے بھی کامل مشابہت ہے یعنی جیسا کہ عمدہ اور اوّل درجہ کی زمین یہ خاصیت رکھتی ہے کہ جب اُس میں تخم ریزی کی جائے اور پھر خوب قلبہ رانی اور آبپاشی ہو اور تمام مراتب محنت کشادزری کے اس پر پورے کر دیئے جائیں تو وہ دوسری زمینوں کی نسبت ہزار گونہ زیادہ پھل لاتی ہے اور نیز اس کا پھل بہ نسبت اور پھلوں کے نہایت لطیف اور شیریں و لذیذاور اپنی کمیت اور کیفیت میں انتہائی درجہ تک بڑھا ہوا ہوتاہے اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الٰہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذاس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خدائے تعالیٰ کی پاک قدرت یاد آکر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے سو یہ آیت
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاٮهَا
۱ صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسان کامل اپنے معنے اور کیفیت کے رو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون و صفات و خواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتاہے جیسا کہ اللہ جل شانہٗ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے