شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجا لارہے ہیں ایسا ہی خدائے تعالیٰ نے سورۃ الشمس میں نہایت لطیف اشارات و استعارات میں انسان کامل کے مرتبہ کو زمین آسمان کے تمام باشندوں سے اعلیٰ و برتر بیان فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے
وَالشَّمْسِ وَضُحٰٮهَا وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰٮهَا وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰٮهَا وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰٮهَا
وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٮهَا وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاٮهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰٮهَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰٮهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٮهَاؕ
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٮهَآ اِذِ انۢبَعَثَ اَشْقٰٮهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقْيٰهَاؕ فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ۙ
فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰٮهَا وَلَا يَخَافُ عُقْبٰهَا
۱ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی اور قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے اور قسم ہے دن کی جب اپنی روشنی کو ظاہر کرے اور قسم ہے اس رات کی جو بالکل تاریک ہو اور قسم ہے زمین کی اور اُس کی جس نے اسے بچھایا اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور اس کی جس نے اسے اعتدال کامل اور وضع استقامت کے جمیع کمالات متفرقہ عنایت کئے اور کسی کمال سے محروم نہ رکھا بلکہ سب کمالات متفرقہ جو پہلی قسموں کے نیچے ذکر کئے گئے ہیں اس میں جمع کر دیے اس طرح پر کہ انسان کامل کا نفس آفتاب اور اس کی دھوپ کا بھی کمال اپنے اندر رکھتا ہے اور چاند کے خواص بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ وہ اکتساب فیض دوسرے سے کر سکتاہے اور ایک نور سے بطور استفادہ اپنے اندر بھی نور لے سکتاہے اور اُس میں روزروشنؔ کے بھی خواص موجود ہیں کہ جیسے محنت اور مزدوری کرنے والے لوگ دن کی روشنی میں کماحقہ اپنے کاروبار کو انجام دے سکتے ہیں ایسا ہی حق کے طالب اور سلوک کی راہوں کو اختیار کرنے والے انسان کامل کے نمونہ پر چل کر بہت آسانی اور صفائی سے اپنی مہمات دینیہ کو انجام دیتے ہیں سو وہ دن کی طرح اپنے تئیں بکمال صفائی ظاہر کر سکتا ہے اور ساری خاصیتیں دن کی اپنے اندر رکھتا ہے۔*
سورج بہ حکمت کاملہ الٰہی سات سو تیس تعینات میں اپنے تئیں متشکل کر کے دنیا پر * حاشیہ