اس کو اٹھا لیا کیونکہ انسان میں یہ دو خوبیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا۔ دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیراللہ کو بکلی فراموش کر دے پھر ایک اور جگہ فرمایا۔ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓٮِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِـقٌ ۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ‏ فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِىْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ‏ فَسَجَدَ الْمَلٰٓٮِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ ۱؂ یعنی ؔ یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے ) فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں سو جب میں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کر لوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھو نک دوں تو تم اُس کے لئے سجدہ میں گرو یعنی کمال انکسار سے اُس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ اور ایسی خدمت گذاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان‘ جو اِس سعادت سے محروم رہ گیا۔ جاننا چاہیئے کہ یہ سجدہ کا حکم اُس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیاگیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کرو یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اُترو اور اُس پر صلوٰۃ بھیجو سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے جب کوئی شخصؔ کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی روح اُس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقاباللہ کادرجہ حاصل کر لیتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اُس پر شروع ہو جاتاہے اگرچہ سلوک کی ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ