فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان اپنے مرتبہ میں سب سے اعلیٰ و ارفع اور سب کا مخدوم ہے جس کی خدمت میں یہ چیزیں لگا دی گئی ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے
وَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآٮِٕبَيْنِۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيْلَ
وَالنَّهَارَ ۚ وَاٰتٰٮكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْـتُمُوْهُؕ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا
۱
هُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَـكُمْ مَّا فِىْ الْاَرْضِ جَمِيْعًا
۲
اور مسخرؔ کیا تمہارے لئے سورج اورچاند کو جو ہمیشہ پھرنے والے ہیں یعنی جو باعتبار اپنی کیفیات اور خاصیات کے ایک حالت پر نہیں رہتے مثلاً جو ربیع کے مہینوں میں آفتاب کی خاصیت ہوتی ہے وہ خزاں کے مہینوں میں ہرگز نہیں ہوتی پس اس طور سے سورج اور چاند ہمیشہ پھرتے رہتے ہیں کبھی ان کی گردش سے بہار کا موسم آجاتاہے اور کبھی خزاں کا اور کبھی ایک خاص قسم کی خاصیتیں ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں اور کبھی اس کے مخالف خواص ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر آگے فرمایا کہ مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو اور دیا تم کو ہریک چیز میں سے وہ تمام سامان جس کو تمہاری فطرتوں نے مانگا یعنی اُن سب چیزوں کو دیا جن کے تم محتاج تھے اور اگر تم خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہرگز گن نہیں سکو گے۔ وہ وہی خدا ہے جس نے جو کچھ زمین پر ہے تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور پھر ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِىْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ
۳
یعنی انسان کو ہم نے نہایت درجہ کے اعتدال پر پیدا کیا ہے اور وہ اس صفت اعتدال میںؔ تمام مخلوقات سے احسن و افضل ہے۔ اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے کہ
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلاً ۙ
۴
یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق و محبت الٰہی اور مورد ابتلا ہو کر پھر پوری اطاعت کرنا ہے آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظاہر قوی ہیکل چیزیں تھیں سو ان سب چیزوں نے اُس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اُس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے