فرشتہ بن کر اس کی اطاعت میں نہ لگا ہوا ہو تب تک یہ سارا کارخانہ اُس کی مرضی کے موافق کیوں کر چل سکتا ہے؟ کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی اور نیز اگر ملائک سماویہ کے نظام روحانی سے خداتعالیٰ کی قادرانہ شان پر کچھ دھبہ لگ سکتاہے توؔ پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ملائک کے نظام جسمانی کے ماننے سے کہ جو نظام روحانی کا بعینہٖ ہم رنگ و ہم شکل ہے خدائے تعالیٰ کی قُدرتِ کاملہ پر کوئی دھبہ نہیں لگ سکتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آریہ وغیرہ ہمارے مخالفوں نے فرط نابینائی سے ایسے ایسے بے جااعتراضات کر دیئے ہیں جن کی اصل بناء بہت سے مشرکانہ حواشی کے ساتھ ان کے گھر میں بھی موجود ہے اور ناحق بوجہ اپنی بے بصیرتی کے ایک عمدہ صداقت کو بطالت کی شکل میں سمجھ لیا ہے۔ چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش در نظر یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کادرجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں ان کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلائل ۱ ؂ نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جل شانہٗ فرماتاہے وَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۲ یعنی وہ خداجس نے سورج اور چاند کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔ مثلاًؔ دیکھنا چاہئے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اِس سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ چٹھی رساں جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے سو خوب سمجھ لو یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادر مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور اُن کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اللہ جل شانہٗ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتصریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے ۱؂ ایڈیشن اول میں اسی طرح لکھا ہے جو سہو کتابت ہے۔ درست لفظ ’’دلالت‘‘ ہے۔ ۲؂ ابراہیم :