کیوں کہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجاآوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اُترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا۔ مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتاؔ ہے جو مختلف بلادو امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔ اگر ہر یک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر اول پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکتؔ کرکے ایک طُرفۃ العَین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے ہرگز نہیں بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے
وَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ
وَّاِنَّا لَـنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ
۱سورۃ صافات جزو ۲۳ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہریک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرحؔ روحانیات سماویہ خواہ اُن کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواحِ کواکب سے اُن کو نامزد کریں
استعمال کیا ہے ۔ مگر چونکہ ان سب مقامات کے لکھنے سے طول ہو جاتا ہے اس لئے بالفعل اسی قدر پر کفایت کرتا ہوں اور میں نے جو اس جگہ تین مراتب قرب اور محبت کے لکھ کر تیسرا مرتبہ کہ جو بزرگ ترین مراتب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ثابت کیا ہے یہ میری طرف سے ایک اجتہادی خیال نہیں بلکہ الہامی طور پر خدا ئے تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ہے ۔ منہ
۱ الصّٰفّٰت: ۱۶۵، ۱۶۶