میں بیان کئے گئے ہیں یہ نہیں کہ حقیقی ابنیت اس جگہ مراد ہے یا حقیقی الوہیت مراد لی گئی ہے۔
اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں ہے کیوں کہ محققین اہل اسلام ہر گز اس بات کے قائل نہیں کہ ملاؔ ئک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اتر تے ہیں اور یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے۔
تیرے تبر تیزی کرتے ہیں ۔ لوگ تیرے سامنے گڑ جاتے ہیں ۔ اے خدا تیرا تخت ابدال آباد ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے ۔ تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنیؔ کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطّر کیا ہے (دیکھو زبور ۴۵)
اب جاننا چاہیئے کہ زبور کا یہ فقرہ کہ اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے یہ محض بطور استعارہ ہے ۔ جس سے غرض یہ ہے کہ جو روحانی طور پر شانِ محمدی ہے اُس کو ظاہر کر دیا جائے۔ پھر یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے چنانچہ اسکی عبارت یہ ہے ۔
’’دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا ۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے میں نے اپنی روح اُس پر رکھی ۔ وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا وہ نہ چلاّئے گا اور اپنی صدا ؔ بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سُنائے گا ۔ وہ مسلے ہوئے سینٹھے کو نہ توڑے گا اور سن کو جس سے دُھؤاں اُٹھتا ہے نہ بجھائے گا جب تک کہ راستی کو امن کے ساتھ ظاہر نہ کرے وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور جزیرے اس کی شریعت کے منتظر ہوویں ......... .خدا وند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اُسکا ئے گا۔ الخ ۱
اب جاننا چاہیئے کہ یہ فقرہ کہ خدا وند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا یہ بھی بطور استعارہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پُر ہیبت ظہور کا اظہار کر رہا ہے ۔ دیکھو یسعیاہ نبیؔ کی کتاب باب ۴۲اور ایسا ہی اور کئی نبیوں نے بھی استعارہ کو اپنی پیشگوئی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
۱ یسعیاہ : باب ۴۲ آیت ۱ تا ۲۳