یا نہایت سیدھے اور موحّدانہ طریق سے ملائک اللہ کا انکو لقب دیں* درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بہ حکمت کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہریک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماریؔ مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔ جو چیز کسی عمدہ جوہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگرچہ خاک کا ایک ٹکڑہ ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الماس اور یاقوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔ دساتیر جس کو مجوسی لوگ الہامی مانتے ہیں جس نے اپنی مدت ظہور کی وہ لمبی تاریخ بتلائی ہے جس کا کروڑواں حصہ بھی وید کی مدت ظہور کی نسبت بیان نہیں کیا گیایعنی وید کی نسبت تو صرف ایک ارب چھیانویں کروڑ مدت ظہور محض دوسروں کے وہم اور گمان سے قرار دی گئی ہے مگر دساتیر تین سنکھ سے کچھ زیادہ اپنی مدت ظہور آپ بیان کرتا ہے بلکہ یہ تو ہم نے ڈرتے ڈرتے لکھا ہے وہاں تو سنکھوں کی حد سے زیادہ تین صفر اور بھی درمیان ہیں۔ یہ کتاب ان روحانیات کوجو کواکب اور سماوَات سے تعلق رکھتی ہیں نہ صرف ملائک قرار دیتی ہے بلکہ ان کی پرستش کے لئے بھی تاکید کرتی ہے ایسا ہی وید بھی ان روحانیات کو صرف وسائط اور درمیانی خدمت گذار نہیں مانتابلکہ جابجا اُن کی حاشیہؔ ملائک اس معنی سے ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں یعنی ان کے قیام اور بقا کے لئے روح کی طرح ہیں اور نیز اس معنے سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں ۔ منہ