ایک مثال کو پیش کرکے فرمایا ہے کہ انگورستان کا پھل لینے کے لئے اوّل باغ کے مالک نے (جو خدائے تعالیٰ ہے) اپنے نوکروں کو بھیجا یعنی ابتدائی ۱ کے قرب والوں کو جس سے مراد وہ تمام صلحا ہیں جو حضرت مسیح کے زمانہ میں اور اُسی صدی میں مگر کسی قدر ان سے پہلے آئے پھر جب باغبانوں نے باغ کا پھل دینے سے انکار کیا تو باغ کے مالک نے تاکید کے طور پر اپنے بیٹے کو ان کی طرف روانہ کیا تا اُس کو بیٹا سمجھ کر باغ کا پھل اس کے حوالہ کرےں۔ بیٹے سے مراد اس جگہ مسیح ہے جن کو دوسرا درجہ قرب اور محبت کا حاصل ہے مگر باغبانوں نے اُس بیٹے کو بھی باغ کا پھل نہ دیا بلکہ اپنے زعم میں اسے قتل کردیا بعد اِس کے حضرت مسیح فرماتے ہیںکہ اب باغ کا مالک خود آئے گا یعنی خدائے تعالیٰ خود ظہور فرمائے گاتا باغبانوں کو قتل کرکے باغ کو ایسے لوگوں کو دیدے کہ اپنے وقت پر پھل دے دیا کریں اس جگہ خدائے تعالیٰ کے آنے سے مراد حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ہے جو قرب اور محبت کا تیسرا درجہ اپنے لئے حاصل رکھتے ہیں ٭ اور یہ سب روحانی مراتب ہیں کہ جو استعارہ کے طور پر مناسب حال الفاظ
ہمارے سیّدو مولیٰ جناب مقدس خاتم الا نبیاءکی نسبت صرف حضرت مسیح نے ہی بیان نہیں کیاکہ آنجناب کادنیا میں تشریف لانا درحقیقت خدا ئے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہے بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیوں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجناب کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجناب کو خدا کر کے پکارا ہے ۔ چنانچہ حضرت داود کے زبور میں لکھا ہے تُو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے ۔ تیرے لبوں میں نعمت بنائی گئی ۔ اس لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا (یعنی تُو خاتم الانبیاءٹھہرا)اے پہلوان تُو جاہ وجلال سے اپنی تلوار حمائل کرکے اپنی ران پر لٹکا امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا ۔ بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں