کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیںکیونکہ یہ ہریک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں اور اس کا نام ذوالافق الاعلٰیبھی ہے کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رَاَیٰ مَارَاَیٰ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان و وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔ اور دائرہ استعدادت بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ درحقیقت پیدائش الٰہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو اِرتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔ حکمتِ الٰہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خِلقت سے اور اَسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالاتِ تامہ کا مظہر سو جیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ و ارفع مقام محبت کا ملا یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کا نام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔ پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اسی پتہ و نشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طورپر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالی شان مقام ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیااور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی