منت ایزد راکہ من برر غم اہل روزگار
صد بلا را مے خرم از ذوق آں عین النعیم
از عنایاتِ خدا و از فضل آں دادار پاک
دشمن فرعونیانم بہر عشق آں کلیم
آںمقام ورتبتِ خاصش کہ برمن شدعیاں
گفتمے گر دید مے طبعے دریں راہے سلیم
در رہِ عشق محمد ایں َسر و جانم رَود
ایں تمنا ایں دعا ایں در دِلم عزم صمیم
اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ عالیہ کی شناخت کے لئے اس قدر لکھنا ضروری ہے کہ مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں ۔سب سے ادنیٰ درجہ جو درحقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اُس محرور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اُس متاثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو اِس درجہ کی محبت پر جب خدائے تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اِس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت واطمینان اورکبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الٰہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کر تی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہوجاتی ہےلیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی ۔فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتاہے
تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الٰہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اُس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ و ریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبتِ الٰہی لوحِ قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاًاس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے اردگرد کو روزروشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفاتِ کاملہ